لارڈس 16 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان اور انگلینڈ کے درمیان 5 مقابلوں کی سیریز کا دوسرا ٹسٹ کرکٹ کے مرکز تصور کئے جانے والے میدان لارڈس پر کل سے کھیلا جارہا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان سیریز کا پہلا مقابلہ ناٹنگھم میں کھیلا گیا تھا جو بغیر کسی نتیجہ کے ختم ہوا جس کے بعد یہاں کی بے جان وکٹ پر تنقید کی گئی ہے لہذا اُمید کی جارہی ہے کہ لارڈس کے تاریخی میدان پر وکٹ ٹسٹ کرکٹ کے لئے انتہائی موزوں ہوگی۔ پہلے ٹسٹ میں ہندوستانی ٹیم نے مقابلہ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے باوجود نہ صرف کامیابی حاصل نہیں کی بلکہ آخری دن اِسے خود کو شکست سے محفوظ رکھنے کے لئے جدوجہد کرنی پڑی۔ جیسا کہ قطعی 11 کھلاڑیوں میں شامل کئے گئے آل راؤنڈر اسٹیورٹ بنی جن کی شمولیت پر تنقید کی گئی تھی، انھوں نے نمبر 7 پر بیاٹنگ کرتے ہوئے نہ صرف نصف سنچری اسکور کی بلکہ ٹیم کو شکست سے محفوظ رہنے والی اننگز سے سہارا دیا۔ اِس اننگز کے باوجود لارڈس ٹسٹ میں اِن کی شرکت غیریقینی صورتحال کا شکار ہے کیونکہ ٹیم کے مستقل اسپنر روی چندرن اشون کی قطعی 11 کھلاڑیوں میں شمولیت کا امکان ہے جوکہ ساتھی آل راؤنڈر رویندر جڈیجہ کے ہمراہ اسپن بولنگ کی ذمہ داری نبھائیں گے۔
اشون اور جڈیجہ کی جوڑی اسپن شعبہ کے علاوہ نمبر 7 اور 8 پر بیاٹنگ کی ذمہ داری بھی نبھائیں گے کیونکہ لارڈس کی وکٹ مقابلہ کے آخری دنوں میں اسپنرس کے لئے سازگار ہوتی ہے۔ دوسری جانب پہلے ٹسٹ میں ٹیم کے لئے بہتر مظاہرہ کرتے ہوئے وکٹیں حاصل کرنے والے اسپنر معین علی کی بولنگ اور لارڈس کی وکٹ کے پیش نظر بائیں ہاتھ کے اسپنر سائمن کیری گان کی انگلش ٹیم میں بحیثیت دوسرے اسپنر شمولیت ہوسکتی ہے۔
معین علی نے ہندوستان کی دوسری اننگز میں 28 اوورس کی بولنگ کرتے ہوئے 105 رنز کے عوض 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا تھا لہذا لارڈس کے میدان پر انگلش ٹیم کا انتظامیہ خواہاں ہے کہ اسپنر سمن کو بھی قطعی 11 کھلاڑیوں میں شامل کیا جائے۔ دوسری جانب ممکن ہے کہ بین اسٹوکس کو باہر کا راستہ دکھاکر اِن کے مقام پر کرس جارڈن کو قطعی 11 کھلاڑیوں میں کھیلنے کا موقع دیا جائے گا کیونکہ جارڈن بیاٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں ٹیم کے لئے فائدہ مند کھلاڑی ہوسکتے ہیں۔ انگلینڈ کے لئے اپنے کپتان الیسٹر کک کا ناقص فارم ہنوز تشویش کا باعث ہے کیونکہ ایک عرصہ سے وہ نہ صرف بہتر مظاہرہ نہیں کرپارہے ہیں بلکہ ناقص بیاٹنگ کی وجہ سے اِن پر دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔
تاریخی میدان لارڈس پر بہتر مظاہرہ کے لئے کک فارم میں واپسی کے خواہاں ہیں۔ ہندوستانی خیمہ میں اوپنر شکھر دھون کا ناقص فارم مہمان ٹیم کے لئے مسائل پیدا کرسکتا ہے کیونکہ دھون پہلے ٹسٹ کی دوسری اننگز میں بالترتیب 12 اور 29 رنز اسکور کرپائے ہیں۔ حالانکہ دوسری اننگز میں اُنھوں نے 29 گیندوں کی اننگز میں 6 چوکے لگاتے ہوئے بہتر آغاز کیا تھا لیکن وہ بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔ ٹیم کے سب سے کامیاب تصور کئے جانے والے بیٹسمن ویراٹ کوہلی آئی پی ایل سے ہی فارم میں نہیں ہیں اور پہلے ٹسٹ کی دونوں اننگز میں انھوں نے ایک اور آٹھ رنز اسکور کئے ہیں۔ لیکن لارڈس پر اِن سے ایک بڑی اننگز کی اُمید کی جارہی ہے۔ایشانت شرما ، محمد سمیع اور بھونیشور کمار نے سیریز کا بہتر آغاز کیا ہے تاہم اسپن شعبہ نے مایوس کردیا ہے۔