قوم کی تعمیر میں خاندان کی اہمیت پر عبدالکلام کا زور

نئی دہلی ۔ 26 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) معاشی ترقی یا فوجی طاقت ہی ہندوستان کو طاقتور نہیں بنائے گی جبکہ حقیقی معنوں میں ٹھوس سماج بنانے کیلئے فیملی کا داخلی طورپرٹھوس ہونا نہایت ضروری ہے ، سابق صدرجمہوریہ اے پی جے عبدالکلام نے اپنی نئی کتاب میں اس نکتہ پر بحث کی ہے ۔ عبدالکلام اور مشہور جین مفکر آنجہانی آچاریہ مہا پرگیا کا اس کتاب بعنوان ’’دی فیملی اینڈ دی نیشن ‘‘ میں کہنا ہے کہ صرف طاقتور اور خوشحال خاندان ہی مضبوط اور معزز قوم کا موجب ہوسکتا ہے ۔ اس کتاب کو تحریر کرتے ہوئے دونوں مصنفین کے نظریات پیش کئے گئے ہیں، جن میں گزشتہ چند دہوں کے تجربات کے حوالے دیئے گئے ہیںاور کروڑوں ہم وطن لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ قوم کی تعمیر میں مضبوط ، متحد اور خوشحال خاندان کس طرح اپنا رول ادا کرسکتے ہیں۔ دونوں مصنفین تحریر کرتے ہیں کہ خاندان میں ارکان کا آپس میں تجربات بانٹنا اور ایک دوسرے کی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے اپنا حصہ ادا کرنا ایک عظیم سماج اور باوقار قوم کو پروان چڑھاتا ہے ۔ انھوں نے کہا، ’’ اس کتاب کو تحریر کرنے کی شروعات میں ہم نے جانا کہ اس میں سماج سے مربوط کتنے پہلو جڑ سکتے ہیںاور گزشتہ چند صدیوں کے دوران ہمارے سماج کے ارتقاء کی کیا حد ہوسکتی ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ ہم تمام یہ ضرور جانتے ہیں کہ آج کی دنیا ایک دوسرے سے مربوط ہے ۔ ٹکنالوجی اور سفر نے دنیا کو عملاً عالمی گاؤں بنادیا ہے ۔

دنیا اس طرح اقوام کا اتحاد بن چکی ہے ۔ کوئی بھی قوم ریاستوں ، سماجی گروپوں ، خاندانوں اور افراد کا الحاق ہوتی ہے ۔ لہذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر کوئی جیو اور جینے دو کے اصول پر آگے بڑھے ‘‘۔ مصنفین کے مطابق کسی معزز قوم کے بارے میں اُن کا خیال دو رخی ہے ۔ ایک داخلی جس کا تعلق انفرادی اور پورے خاندان ، برادری اور سماج سے ہے ۔ دیگر خیال میں گذر بسر ، تجارت ، تقسیم دولت اور ایک دوسرے کے حقوق کے لئے احترام کا احاطہ ہوتا ہے ۔ مصنفین نے کوئی بالکلیہ نیا نظریہ پیش نہیں کیا بلکہ ہماری تہذیب کے ورثہ کو اُجاگر کیا ہے ۔ یہ کتاب عصری دور کی زندگی میں ہندوستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لئے جہاں کئی مذاہب اور کئی برادریاں آباد ہیں ، اتحاد و اتفاق کے ساتھ ترقی کے منازل طئے کرنے کیلئے رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش ہے ۔