پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ مطالبہ
نئی دہلی 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام )جموں و کشمیر میں مفتی محمد سعید حکومت کی برطرفی اور علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی جیسے قوم دشمن اقدام کرنے پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے خلاف پابندی عائد کرنے کا مطالبہ آج لوک سبھا میں اٹھایا گیا۔ انا ڈی ایم کے لیڈر پی وینوگوپال نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی اس مسئلہ پر کل ایوان میں وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے دیئے گئے بیان سے مطمئن نہیں ہے اور یہ معلوم کرنا چاہئے کہ مرکز نے ریاستی حکومت سے کس نوعیت کی وضاحت طلب کی ہے جبکہ وزیر اعظم نے کل مسرت عالم کی رہائی پر اعتراض کیا تھا اور وزیر داخلہ نے بتایا کہ ان کی وزارت نے اس مسئلہ پر ریاستی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے ۔ مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ چیف منسٹر جموں و کشمیر نے پولیس کو مزید ایک درجن عسکریت پسندوں بشمول بعض سیاسی قیدیوں کی رہائی کی ہدایت دیکر زخموں کو کریدا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو ریاست میں مخلوط حکومت سے باہر آجانا چاہئے اور علحدگی پسندوں سے ہمدردی جتانے پر مرکز کو چاہئے کہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی پر امتناع عائد کردے ۔
انا ڈی ایم کے ایک اور رکن انور رضا نے بھی کہا کہ مفتی حکومت کو برطرف کیا جائے کیونکہ اس نے قومی یکجہتی اور سالمیت کے خلاف قدم اٹھایا ہے ۔ لوک سبھا میں مسلسل دوسرے دن بھی مسرت عالم کا مسئلہ چھایا رہا جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راجناتھ نے کل اس تنازعہ پر پارلیمنٹ میں بیانات دیئے تھے۔دریں اثناء اپوزیشن جماعتوں نے ان اطلاعات پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ جموں و کشمیر حکومت مزید 800 علدحگی پسندوں کو رہا کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے اور یہ دریافت کیا کہ آیا ریاستی حکومت نے مرکز کو روانہ اپنی رپورٹ پر اس کا تذکرہ کیا ہے ۔ راجیہ سبھا میں نریش اگروال اور دیگر کی جانب سے یہ مسئلہ اٹھانے کے بعد وزری فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ حکومت کسی بھی مخصوص معاملہ کو علم میں لانے پر جواب دینے کیلئے تیار ہے ۔ ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی اگراول نے کہا کہ گورنر جموں و کشمیر کی رپورٹ پر سب سے پہلے مباحث کیلئے انہوں نے ایک نوٹس دی ہے۔جس میں مزید 800 علحدگی پسندوں کو رہا کرنے کا اشارہ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آیا گورنر رپورٹ مرکز کو روانہ کی ہے اور علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی رہائی کے احکامات پر انہوں نے دستخط کئے ہیں جبکہ انا ڈی ایم کے ارکان یہ ادعا کیا کہ جموں و کشمیر میں تقریبا 10 ہزار علحدگی پسند قیدیوں کی رہائی کیلئے تیاری کی جارہی ہے تاہم ارون جیٹلی نے بتایا کہ وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ نے کل یہ واضح بیان دیا ہے کہ علحدگی پسند لیڈر کی رہائی پر ریاستی حکومت کی روانہ رپورٹ کے بارے میں انہیں بعض تحفظات ہیں جس کے پیش نظر مزید تفصیلات طلب کی گئی ہیں ۔ نائب صدر نشین راجیہ سبھا مسٹر پی جے کورین نے نریش اگروال کی نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلہ پر مباحث کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ وزیر داخلہ نے کل مباحث کا جواب دیدیا ہے ۔