دبئی ۔ 24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایک سال سے زائد عرصہ میں سعودی عرب متحدہ عرب امارات اور اس کے حلیفوں نے قطر سے اپنے تعلقات ختم کرلئے جس کی وجہ سے خلیج میں سفارتی بحران پیدا ہوگیا۔ 5 جون 2017ء کو سعودی عرب اور اس کے حلیف بحرین، مصر اور امارات نے دوحہ پر الزام لگایا کہ وہ ’’دہشت گردوں‘‘ کی حمایت کررہا ہے اور ایران سے کچھ زیادہ ہی قربت رکھتا ہے جس کی قطر نے پرزور تردید کی۔ زمینی اور سمندری سرحدوں کو بند کردیا گیا حتیٰ کہ فضائی پٹی کو بھی بند کردیا گیا اور قطری شہریوں کو بھی برطرف کردیا گیا۔ ریاض نے اپنے اقدام کی مدافعت میں کہا کہ ’’وہ اپنے قومی سلامتی کیلئے یہ اقدام کررہا ہے تاکہ اس کے ملک میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی بیخ کنی کی جاسکے۔ الجزیرہ ٹی وی کی نشریات کو بھی سعودی عرب نے بند کردیا۔ قطر نے غیرملکی طاقتوں سے ’’ڈیفنس معاملات‘‘ کا آغاز کیا۔ امریکہ سے جون میں F-15 لڑاکا طیارے 12 بلین ڈالرس میں خریدے جبکہ ڈسمبر میں فرانس سے 13 بلین ڈالرس اور برطانیہ سے 8 بلین ڈالرس کے صرفہ سے ’’ٹائفون فائٹرس‘‘ خریدے۔ قطر نے جو سابق میں اپنے خلیجی پڑوسیوں پر منحصر رہتا تھا، اس کا جھکاؤ ایران اور ترکی کی جانب ہوگیا بطور خاص درآمدات کے معاملات میں یہ جھکاؤ زیادہ تھا۔ اس کے برعکس (یہودی پالیسی کے تحت) وائیٹ ہاؤس نے اپریل میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی کو ’’میرے قریبی ساتھی‘‘ اور ’’جنٹلمین‘‘ کا خطاب دیا جبکہ سابق میں سعودی عرب کے بلاک کی حمایت کی تھی۔ ٹرمپ نے قطر کی امریکی فوجی آلات بیرون دوحہ ایربیس، 10 ہزار ٹروپس کیلئے خریداری کی ستائش کی جو مشرق وسطیٰ میں سب سے بڑی خریداری متصور کی جارہی ہے۔ 23 جولائی کو انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس نے امارات کو احکامات دیئے کہ قطری شہریوں کے معہ خاندان حقوق کا تحفظ کیا جائے تاکہ وہ دوبارہ متحد ہوسکیں۔ علاوہ ازیں قطری طلبہ کو امارات میں تعلیم مکمل کرنے کا موقع دیا جائے۔