فیفا اور یورپین فٹبال اسوسی ایشن میں کشیدگی

برلن ۔ 18 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) فٹبال ورلڈ کپ 2018 اور 2022 بالترتیب روس اور قطر میں ہی کھیلے جانے کے فیصلے کے بعد کھیل کی عالمی تنظیم فیفا اور دنیا کی سب سے طاقت ور اسپورٹس آرگنائزیشن یورپین فٹبال اسوسی ایشن ( یوئیفا ) میں سخت کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ جرمن فٹبال لیگ کے صدر رائن ہارڈ روبال نے معاملے کو شفاف قرار نہ دیتے ہوئے فیفا سے تعلقات ختم کرنے اور راہیں جدا کرلینے کی دھمکی دی ہے جبکہ انگلش ایف اے کے سابق سربراہ نے یوئیفا سے آئندہ ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کرنے مطالبہ کردیا ہے۔ واضح رہے یوئیفا کے صدر مائیکل پلاٹینی پہلے ہی اس مسئلے پر بہت بڑے ناقد ہیں۔ رائن ہارڈ نے کہا ہیکہ روس اور قطر کو میزبانی دیے جانے کے حوالے سے امریکی ماہر قانون مائیکل گارشیا کی مرتب کردہ رپورٹ منظر عام پر نہ لائی گئی تو یوئیفا عالمی گورننگ باڈی سے علیحدگی اختیار کرنے پر غور کرسکتی ہے۔

یاد رہے کہ یورپی فٹبال طاقتیں اگلے دو عالمی کپ کی میزبانی روس اور قطر کے حوالے کیے جانے پر بدعنوانی اور جانبداری کا الزام عائد کرتی ہیں، ان ممالک کی کوشش ہے کہ ایونٹس کہیں اور منتقل کردیے جائیں۔لیکن فیفا نے حال میں ہی مذکورہ دونوں میزبان ممالک کوکلین چٹ دے دیا ہے۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ فیفا کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ رپورٹ میں کئی اہم نکات کو دانستہ نہیں چھوا گیا، جو باعث تشویش ہے۔فیفا کو مذکورہ رپورٹ دنیا کے سامنے پیش کردینی چاہیے۔ ہمارے خیال میں اس کی ساکھ بحال کرنے کا یہی واحد طریقہ ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ بحران احسن طریقہ سے ختم نہ کیا گیا تو خدشہ ہے کہ بہت کچھ ہل جائے گا۔ ہمیں یہ سوچنا پڑے گا کہ کیا فیفا درست انداز سے کام کررہی ہے یا نہیں۔ اگر معاملات اسی انداز سے چلتے رہے تو میں فیفا کی بنیادیں اس طریقے سے ہلتی دیکھ رہا ہوں جس کا تجربہ دنیا کو ماضی میں کبھی نہیں ہوا ہوگا۔