غزہ سٹی (فلسطینی سرحد) ۔ 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) اب جبکہ مقدس ماہ رمضان المبارک اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے وہیں فلسطینی شہریوں کی کثیر تعداد اس بات پر رنجیدہ ہے کہ انہیں تنخواہوں کی ادائیگی بروقت نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے وہ لوگ عیدالفطر روایتی جوش و خروش سے منانے کے موقف میں نہیں ہیں۔ ایسے ہی ایک شہری ہانی اللحم نے بتایا اس کی تنخواہ 1700 شیکیلس (475 امریکی ڈالرس) ہے لیکن فلسطینی حکومت نے اسے دو ماہ سے تنخواہ ادا نہیں کی ہے اور وہ اس بات کیلئے پریشان ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو کس طرح سمجھائے کہ عیدالفطر منانا اب ان کے بس کی بات نہیں۔ ہانی نے بتایا کہ غزہ کے مالی حالات دگرگوں ہیں۔ اس کے خراب مالی حالات کی وجہ سے ہی اسے اپنا کرائے کا مکان چھوڑنا پڑا جو خان یونس میں واقع تھا جبکہ جس عارضی مکان میں وہ اور اس کا خاندان منتقل ہوا ہے، بلدی حکام اسے منہدم کرنے کیلئے بضد ہیں۔ ان کا کہنا ہیکہ یہ مکان بلدیہ کی اجازت کے بغیر بنایا گیا ہے۔ ہانی نے بتایا کہ اگر اسے بروقت تنخواہ مل جائے تو وہ ایک دوسرا مکان کرائے پر لے گا۔