عدالتوں میں ملزمین بری … متاثرین انصاف کے منتظر
لندن میں مودی کا مظاہروں سے استقبال
رشیدالدین
کرناٹک اسمبلی انتخابات کی مہم کے ساتھ ملک کی بعض عدالتوں کے فیصلے ان دنوں میڈیا کی سرخیوں میں ہیں۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ عدالتوں کے فیصلوں کا اثر انتخابی مہم اور نتائج پر پڑسکتا ہے۔ ملک میں بی جے پی برسر اقتدار آتے ہی عدالتوں میں سنگھ پریوار کی زیر سرپرستی بھگوا دہشت گردوں کی عدالتوں سے برات کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔ کئی ایسے مقدمات جن میں ملزمین نے اقبال جرم کیا اور تحقیقاتی ایجنسیوں نے ٹھوس ثبوت کا دعویٰ کیا، باوجود اس کے عدالتوں کے فیصلے متاثرین اور مظلومین کے حق میں آنے کے بجائے ملزمین کیلئے راحت کا سامان کر رہے ہیں ۔ 2014 ء میں حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی صورتحال تبدیل ہوگئی۔ مقدمات کے اہم گواہ منحرف ہوگئے اور ملزمین نے بھی اقرار جرم سے انکار کردیا۔ تحقیقاتی ادارے مجبور ، بے بس اور لاچاری کے ساتھ اپنی ناکامی کا خود تماشہ دیکھتے رہ گئے۔ عدالتوں کے فیصلوں کے مضمرات کا جائزہ لینے سے قبل کرناٹک کی انتخابی صورتحال کا جائزہ لیں گے۔ کانگریس کے آخری مضبوط قلعہ کرناٹک پر بھگوا پرچم لہرانے کیلئے بی جے پی نے لاو لشکر کے ساتھ صف بندی کرلی ہے۔ کرناٹک میں کانگریس اور بی جے پی کا گھمسان کس نتیجہ پر پہنچے گا ، اس کا اندازہ رائے دہی سے عین قبل کیا جاسکتا ہے ۔ 12 مئی کے چناؤ کے لئے پرچہ جات نامزدگی کے ادخال کا سلسلہ جاری ہے۔ دونوں پارٹیوں کیلئے کرناٹک وقار کا مسئلہ بن چکا ہے۔ دو پارٹیوں کی اس لڑائی میں جنتا دل سیکولر اپنا فائدہ ڈھونڈ رہی ہے اور بعض طاقتیں اسے تازہ دم کرتے ہوئے ووٹ کی تقسیم کے خواہاں ہیں۔ کانگریس جو اپنا آخری محاذ کسی بھی صورت ہارنا نہیں چاہتی وہ ووٹ کی تقسیم کے امکانات سے خوفزدہ ہے۔
بی جے پی اپنی طاقت کے بل پر نہ سہی ، ووٹ کی تقسیم سے معلق اسمبلی چاہتی ہے تاکہ جنتادل سیکولر کے ساتھ مخلوط حکومت کا دوسرا تجربہ کیا جاسکے۔ ووٹ کی تقسیم کیلئے بیرون کرناٹک کے قائدین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کرناٹک جہاں اصل نشانہ بی جے پی اور سنگھ پریوار ہونا چاہئے، وہاں بعض نادان ان کے اشاروں پر کام کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ جس طرح اترپردیش میں سیکولر ووٹ کی تقسیم کا فائدہ بی جے پی کو ہوا، اسی تجربہ کو دہراتے ہوئے جنتا دل سیکولر کے کمزور اور نحیف جسم میں توانائی سرائیت کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ جنتا دل سیکولر کیلئے اپنی طاقت پر اقتدار کا حصول ناممکن ہے۔ لہذا مخلوط حکومت اس کے لئے نعمت سے کم نہیں۔ ایسے وقت جبکہ ملک میں فرقہ پرست طاقتیں تیزی سے اپنی جڑیں پھیلا رہی ہے، کرناٹک میں شکست کے ذریعہ ان کی پیشرفت کو روکا جاسکتا ہے۔ کانگریس کو کمزور کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی۔ مصلحت اور دانشمندی کا تقاضہ یہی تھا کہ فرقہ پرست طاقتوں کے مقابلہ مضبوط سیکولر جماعت کی تائید کی جائے۔ آپسی اختلافات کی یکسوئی پھر کبھی ہوسکتی ہے لیکن اختلافات اور محض سیاسی اغراض کے لئے سیکولرازم پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ اب بھی وقت ہیکہ سیکولر ووٹ کی تقسیم روکنے کیلئے فرقہ پرست طاقتوں کو فائدہ پہنچانے والی کسی بھی اقدام سے گریز کریں۔ ملک میں جمہوری اقدار اور سیکولر نظریات کا تحفظ ہر کسی کی اولین ترجیح ہونی چاہئے ، ورنہ بی جے پی نے ہندو راشٹر کا خاکہ تیار کرلیا ہے۔ کرناٹک کے رائے دہندے عدالتوںکے حالیہ فیصلوں پر اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ ان دنوں ملک میں خاطیوں اور ملزمین کو بچانے کا چلن عام ہوچکا ہے۔ عدالتوں کے ذریعہ بری کیا جارہا ہے اور ہر کیس میں ایک ہی ترک ہے کہ شواہد نامکمل یا سرے سے نہیں ہیں۔ جو تحقیقات ایجنسیاں چار سال قبل تک پختہ ثبوت کا دعویٰ کرتی رہی، ان کے ثبوت اچانک کہاں غائب ہوگئے ۔ حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ثبوت بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ حکومتوں کی تبدیلی کا اثر تحقیقاتی ایجنسیوں پر پڑنے لگے تو یہ ملک میں انصاف رسانی نظام کیلئے ٹھیک نہیں۔ اس سے تحقیقاتی اداروں پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوجائے گا ۔ انصاف میں تاخیر کو انصاف سے محرومی کہا جاتا ہے ۔ ایسے میں برسوں انتظار کے باوجود متاثرین کو انصاف نہ ملے تو عدلیہ کا وقار مجروح تو ہوگا ہی ، حالانکہ فیصلوں کا انحصار استغاثہ کی رپورٹ اور اس کے فراہم کردہ ثبوت اور گواہوں کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ تحقیقاتی ادارے اگر حکومت کے اشاروں پر کام کرنے لگے تو یہ خطرہ کی گھنٹی ہے اور جس پارٹی کی حکومت ہو ، وہ اپنے حامیوں کو کسی بھی طرح بچالیں گے۔ مکہ مسجد ، اجمیر ، مالیگاؤں اور سمجھوتہ اکسپریس میں بم دھماکوں کے سلسلہ میں زعفرانی دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب ہوا تھا ۔ سی بی آئی اور این آئی اے نے ثبوت اکھٹا کرتے ہوئے چارج شیٹ داخل کی لیکن بی جے پی برسر اقتدار آتے ہی مقدمات کی نوعیت تبدیل ہوگئی اور گواہ منحرف ہوگئے ۔
آخرکار وہی ہوا جو بی جے پی چاہتی تھی ۔ عدالت نے اہم ملزمین کو ضمانت دیدی یا مکمل طور پر بری کردیا۔ حیدرآباد میں این آئی اے کی خصوصی عدالت نے مکہ مسجد دھماکہ کے تمام ملزمین کو بری کرتے ہوئے کہا کہ این آئی اے ملزمین کے خلاف ثبوت پیش کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔ اسی طرح عادل آباد ضلع کے وٹولی ایک خاندان کے 6 افراد کو زندہ جلانے کے واقعہ کے ملزمین تحت کی عدالت سے بری ہوگئے ۔ 10 سال سے زائد عرصہ تک NIA ثبوت اکھٹا نہ کرسکی تو کس پر بھروسہ کیا جائے۔ تحقیقاتی ادارے عوام کو جواب دیں کہ آخر بم دھماکے اور زندہ جلانے کے لئے ذمہ دار کون تھے؟ ملک کے وزیراعظم دہشت گردی سے لڑائی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن حکومت کی تحقیقاتی ایجنسیاں ، دہشت گردوں کو بچا رہی ہے۔ مقدمات میں استغاثہ کو کمزور کرنے سے عدالتوں کا وقار مجروح ہوا ہے۔ دونوں واقعات میں ملزمین کی برات کیلئے این آئی اے قصور وار ہے۔ گواہوں کے انحراف میں عدالت کا کیا قصور۔ عدالت تو فیصلہ ثبوت اور گواہوں کی بنیاد پر سناتی ہے۔ اگر یہی رجحان رہا تو 2019 ء میں موجودہ حکومت کو عوام تبدیل کردیں گے اور آنے والی حکومت ان مقدمات کی تحقیقات کو از سر نو شروع کرسکتی ہے۔
ملک کے موجودہ حالات سے دنیا بھر میں ہندوستان کی بدنامی ہوئی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی جب لندن پہنچے تو ان کا استقبال احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ کیا گیا ۔ خواتین پر مظالم ، عصمت ریزی کے واقعات اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے زعفرانی دہشت گردوں کی پشت پناہی جیسے واقعات میں بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کے وقار کو متاثر کیا ہے۔ وزیراعظم جب لندن پہنچے تو مختلف تنظیموں نے احتجاج درج کرایا ۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے 125 کروڑ عوام سے جو وعدہ کیا تھا ، اس پر عمل آوری میں ناکام ہوچکے ہیں۔ تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک اور اچھے دن کا دعدہ محض ڈائیلاگ بن کر رہ گیا ۔ نریندر مودی کو ملک کے حالات سے زیادہ بیرونی دوروں کی فکر ہے۔
ایک طرف ملک بھر میں خواتین پر مظالم کے خلاف عوام سڑکوں پر آچکے ہیں، وزیراعظم بیرونی ممالک کی تفریح کر رہے ہیں۔ ان کے وزراء بھی حساس موضوعات پر لب کشائی سے گریزاں ہیں۔ جب کبھی اس طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے ، نریندر مودی رسمی انداز میں مذمت اور کارروائی کا تیقن دیتے ہیں۔ خواتین کی عصمتوں سے کھلواڑ کے واقعات بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں زیادہ پیش آئے ہیں۔ حالیہ واقعات جموں و کشمیر اور اترپردیش کے ہیں۔ دنیا بھر میں ملک کی بدنامی کا احساس وزیراعطم کو ہونا چاہئے ۔ دوسری طرف سپریم کورٹ نے سی بی آئی عدالت کے خصوصی جج جسٹس لویا کی مشتبہ موت کی دوبارہ تحقیقات سے انکار کردیا۔ اس سلسلہ میں دائر کردہ درخواستوں کو مسترد کردیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ کا یقیناً احترام کیا جانا چاہئے لیکن عدالت کی ذمہ داری ہے کہ عوام میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا ازالہ کریں۔ عدلیہ کو یہ پہلو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ یہ کوئی عام نوعیت کا کیس نہیں بلکہ ایک خاص کیس ہے جس کے اہم ملزم بھی خاص ہیں۔ جسٹس لویا سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر مقدمہ کی سماعت کر رہے تھے ، جس میں بی جے پی کے صدر امیت شاہ اہم ملزم ہیں۔ جسٹس لویا موت کے وقت سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج تھے اور بعد میں ان کے جانشین جج نے امیت شاہ کو بری کردیا ۔ سپریم کورٹ نے جس انداز میں فیصلہ سنایا، ماہرین قانون کے مطابق کئی اہم ثبوت نظر انداز کئے گئے۔ کسی بھی اہم واقعہ پر عوام کو شبہات ہوں تو انہیں دور کرنا عدلیہ کی ذمہ داری ہے۔ پارلیمنٹ اور عاملہ سے زیادہ عوام کو عدلیہ پر بھروسہ ہے۔ ملک میں عدلیہ کو جمہوریت اور دستور کے تحفظ کے لئے آخری امید کی کرن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ عدالتوں کو انصاف کے وقت شخصی خیالات فیصلہ پر حاوی نہیں کرنا چاہئے ۔ انصاف کی کتاب کبھی بند نہیں ہوسکتی۔ ایس سی ، ایس ٹی قانون کو جب سپریم کورٹ نے نرم کردیا تو دلتوں کے احتجاج پر مرکزی وزیر قانون نے یہاں تک کہہ دیا کہ آرڈیننس کی اجرائی اور پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بے اثر کرنے کیلئے حکومت تیار ہے۔ عدالتوںکا کوئی بھی فیصلہ قطعی نہیں ہوسکتا، اسے بے اثر کرنے کا اختیار عوامی ایوان یعنی پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ ٹاملناڈو میں جلی کٹو رسم پر امتناع سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلہ کو حکومت نے بے اثر کردیا تھا ۔ اس طرح جسٹس لویا کی مشتبہ موت پر سپریم کورٹ کے فیصلہ نے کئی سوال کھڑے کردیئے ۔ جوہر کانپوری نے کچھ اسطرح تبصرہ کیا ہے؎
فقط خدا سے ہی انصاف کی امید رکھو
عدالتوں کو تو قاتل خرید لیتے ہیں