فرقہ وارانہ تشدد پر لوک سبھا میں عاجلانہ مباحث ، کانگریس کا مطالبہ ،وزیر داخلہ کی غیرحاضری پر اجلاس ملتوی

نئی دہلی۔ 13 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے آج لوک سبھا میں مطالبہ کیا کہ ملک گیر سطح پر فرقہ وارانہ تشدد پر عاجلانہ مباحث منعقد کئے جائیں اور مباحث میں تاخیر پر اعتراض کیا گیا جس کی وجہ سے اسپیکر نے انتباہ دیا کہ ایسا کرنے سے صدرنشین کے عزائم پر شک و شبہ ظاہر ہوتا ہے۔ ایوان کا اجلاس آج شروع ہوتے ہی کانگریس قائد ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ان کی پارٹی فرقہ وارانہ تشدد پر عاجلانہ مباحث کا اس لئے مطالبہ کررہی ہے کہ ایجنڈہ میں دیگر مسائل بھی شامل ہیں، لیکن ان کے مطالبہ کو اہمیت نہیں دی جارہی ہے۔ انہوں نے حیرت ظاہر کی کہ ان کی پارٹی یہ مسئلہ کیوں نہیں اٹھا سکتی، جبکہ لوک سبھا میں یہ مسئلہ اٹھانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ صدرنشین پر انگشت نمائی نہیں کی جانی چاہئے۔ کھرگے نے کہا کہ ان کی پارٹی کو اسپیکر پر بھرپور اعتماد ہے، وہ اس پر جانبداری کا الزام عائد نہیں کررہی ہے، کانگریس ارکان صرف اس مسئلہ پر اپنے تحفظات ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ مرکزی وزیر پارلیمانی اُمور وینکیا نائیڈو نے کہا کہ بے شک یہ اہم مسئلہ ہے ، لیکن کارروائی پروگرام کے مطابق چلائی جارہی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اس وقت ایوان میں موجود تھے جبکہ کانگریس نے یہ مسئلہ اٹھایا، لیکن مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ موجود نہیں تھے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ کرن رجیجو بھی ایوان سے غیرحاضر تھے جس کی وجہ سے بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات پر خصوصی مباحث آج منعقد نہیں کئے جاسکے اور ایوان کا اجلاس ملتوی کردیا گیا، حالانکہ مرکزی وزراء سمترا ایرانی، ہرسمرت کور اور وی کے سنگھ موجود تھے۔ کانگریس ارکان مرکزی وزیر داخلہ اور مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ کی موجودگی پر اصرار کررہے تھے۔