غزہ۔7اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) جرمن چانسلر انجیلا مرکل نے کہا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور فلسطینیوں اوراسرائیل کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں معاونت کے لیے تیار ہیں۔ فلسطینی میڈیا کے مطابق صہیونی ریاست کے دورے کے دوران حیفا میں اسرائیلی طلبا سے خطاب میں کہا کہ جرمنی غزہ کے علاقے میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کی ڈیل میں معاونت اور ثالثی کے لیے تیار ہیں۔خیال رہے کہ جرمن چانسلر گذشتہ روز اسرائیلی ریاست کیدورے پر تل ابیب پہنچی تھیں۔ ان کے ساتھ اسرائیل آنے والوں میں وزرا بھی شامل ہیں۔ جرمن چانسلر کی طرف سے فلسطینی علاقے غزہ میں جنگ بندی میں ثالثی کی تجویز ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب دوسری جانب اسرائیلی دشمن غزہ کی سرحد پر فوج جمع کررہا ہے۔ اس کارروائی کا مقصد غزہ کی پٹی پر ایک نئی جنگ مسلط کرنے کی تیاری کرنا ہے۔جرمن چانسلر نے کہا ہے کہ وہ فلسطینی مزاحمتی تنظیموں اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے لیے ہرممکن کوششیں کرنے کے لیے تیار ہیں۔ایک طالب علم کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم نے ماضی میں بھی فلسطینی دھڑوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کرائی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کرائے۔ ان میں گیلاد شالیت کا معاہدہ بھی شامل ہے۔