عقائد کا تحفظ اوراصلاح امت‘ بانی جامعہ کی تر جیحات

محبوب نگر میں مرکزی جلسہ شیخ الاسلام کا انعقاد۔ مفتی خلیل احمد کا خطاب
محبوب نگر ۔14؍مارچ (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) عقائد حقہ تحفظ اور اصلاح امت ‘بانی جامعہ نظامیہ ؒ کے ترجیحات میں شامل تھے ۔آپ ؒ کی حیات مقدسہ کا جائزہ لیں تو یہ بات عیاں نظر آئے گی کہ بانی جامعہ نظا میہ ؒ نے اپنے حین حیات سفر و حضر ،خلوت و جلوت ،نشیب و فراز غرض ہر عام و خاص موقعوں پر عقائد حق کی پاسداری اور علوم اسلامیہ کی ترویج و اشاعت اور اصلاح امت کے لئے ہمہ تن مصروف کا ر رہے ۔ان خیالات کا اظہار مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے طلباء جامعہ نظامیہ و محبان شیخ الاسلام ؒکے زیر اہتمام گذشتہ شب بعد نماز عشاء جامع مسجد محبوب نگر میں منعقدہ جلسہء شیخ الاسلام ؒ بہ ضمن ’’صد سالہ عرس تقاریب حضرت شیخ اسلام عارف باللہ امام محمد انوار اللہ فاروقی فضیلت جنگ خان بہادر بانی جامعہ نظامیہ و زیر سلطنت حکومت آصفیہ ‘‘سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے مزید کہاکہ اللہ رب العالمین نے انسان کو اشرف المخلوقات کا شرف محض علم کی بنیاد پر عطاء کیا ہے ۔اپنا سلسلہ ء خطاب جاری رکھتے ہو ئے مفتی خلیل احمد نے مزید کہا کہ علم بالخصوص علوم دینیہ کا حصول اور اس کی ترویج و اشاعت کا اہم فریضہء ذات رسالت مآب ؐ سے اعتقادی وقلبی نسبت کے استحکام کے ساتھ جاری ہو تو وہ علم نافع ہوگاورنہ وہی علم کھلی و پوشیدہ گمراہی کا باعث بنے گا جس کی خود قرآن و حدیث میں سینکڑوں مثالیں ملتی ہیں ۔مولانا مفتی سید صغیر احمد نقشبندی نائب شیخ الحدیث جامعہ نظامیہ نے ابنائے جامعہ نظامیہ کاتذکرہ اور ان کی عالمگیر خدمات پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علماء جامعہ بالخصوص حضرت بانی جامعہ نظا میہ ؒکے بے شمار شواگرد جن میں قابل ذکر حضرت سید عبد اللہ شاہ نقشبندی قادری مجددی المعروف محدث دکن اور ڈاکٹر محمد حمید اللہ فرانس ہیں جنھوں نے تفسیر قرآن اور علوم حدیث میں نمایاں خدمات انجام دیئے ہیں کہ جن کا اعتراف آج دنیا ء عرب و عجم کے معرو ف وغیر معروف علماء ذی وقار کرتے نظر آتے ہیں ۔مولانا مفتی سید ضیاء الدین نقشبندی شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ نے بانی جامعہ نظامیہ ؒ کی عقائد و نظریات اہلسنت و جماعت کاتحفظ اور اس کے مخالفت میں اٹھنے والی ناپاک سازشوں کے تدارک اور سدباب کے لئے انجام دیئے گئے ناقابل فراموش خدمات کا تذکرہ کیا ۔مولانا محمد عبد الرزاق ٹیچر نے خطبہء استقبالیہ پیش کیا ۔مولانا محمد رحمت اللہ نقشبندی نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔حافظ میر اعجاز علی کی قرأت اور حافظ الیاس علی کی نعت سے جلسہء کا آغاز اور صدر جلسہ ء مفتی خلیل احمد کی دعاء سے پروگرام کااختتام عمل میں آیا ۔اس موقع پرمولانا محمد عبد المطلب خضر ،مولانا محمد الیاس ،مولانا سید مشتاق احمد ، مولانا محمد منیر الدین ،مولانا محمد امتیاز الرحمن ،مولانا محمد اسمعیل،مولانا سید بختیار الدین انصار ،مولانا سید مجاہد،مولانا ڈاکٹر محمد غیاث پاشاہ ،حافظ خواجہ فیض الدین کے علاوہ دیگر علماء کرام و مشائخین عظام اور مرد و خواتین کی کثیر تعداد موجود تھی ۔