عصری تعلیم دینی تعلیم کے بغیر ادھوری

کے این واصف
’’اسکول‘‘ اور ’’مدرسہ‘‘ آج کے دور میں دو مختلف نہج کے تعلیمی ادارے مانے جاتے ہیں۔ اسکول سے مراد عصری تعلیم کا ادارہ لیا جاتا ہے اور مدرسہ کا مطلب جہاں صرف دینی تعلیم دی جاتی ہے اور یہ حقیقت بھی ہے ۔ اس طریقہ تعلیم نے دینی اور دنیوی تعلیم کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی ہے جس سے اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے دین سے اور مدرسہ میں بڑھنے والے بچے عصری تعلیم سے محروم رہ گئے ہیں۔ ہم اگر اپنے ماضی کی طرف دیکھیں تو مدرسہ ہی حصول علم کا واحد ذریعہ ہوا کرتا تھا اور اس دور میں ڈاکٹرز ، انجنیئرز آرکیٹکٹ ، ماہرین ریاض ، طبعیات و کیمیا، فلسفی، مفکر وغیرہ وغیرہ سب ان ہی مدارس کے فارغ ہوتے تھے ۔ اس بات کا ثبوت ہمارا ادب عالیہ اور ہماری تاریخی عمارتیں ہیں جو صدیوں سے کھڑی اس بات کی گواہی دے رہی ہیں۔ ایسا کیوں ہوا یا مدرسہ اور اسکول حصول علم کے دو الگ ذ رائع کیوں اور کیسے ہوئے یہ ایک الگ اور طویل بحث ہے جو ایک علحدہ اور مفصول گفتگو کی متقاضی۔ یہاں ہم صرف اتنا کہیں گے کہ مدرسہ اور اسکول کے درمیان کھنچی دیوار نے امت مسلمہ کو شدید نقصان پہنچایا ۔ ہماری نسلوں میں دین سے دوری اسی وجہ سے پیدا ہوئی لیکن پچھلے چند برسوں میں کچھ مسلم مفکرین و درد مند حضرات نے اس جانب توجہ کی اور اپنے عصری تعلیمی اداروں میں بچوں کیلئے دینی تعلیم کا مکمل انتظام بھی کیا ۔ اس سلسلے کی سب سے بڑی مثال ریاست کیرالا میں قائم ’’نالج سٹی‘‘ کی ہے۔ جہاں طلباء پر اپنی عصری تعلیمی ڈگری کے ساتھ اس دوران دی گئی دینی تعلیم کا امتحان بھی کامیاب کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح یہاں کے فارغ طلباء اپنے عصری تعلیم کے میدان میں مہارت کے ساتھ دینی تعلیم ، فقہی و شرعی مسائل وغیرہ سے پوری طرح واقف ہوتے ہیں۔

ہم نے اپنی بات اپنے عظمتِ رفتہ کی نشانیوں اور قدیم تعلیمی اداروں کے ذکر سے شروع کی تھی ۔ اس سلسلے میں سب سے اہم نام مدرسہ محمود گاوان کا ہے ۔ جسے 1472 ء میں خواجہ محمود گاوان نے تعمیر کروایا تھا ۔ محمود گاوان عادل شاہی خاندان کے بادشاہ محمد شاہ قوم (1463-1482) کے وزراء میں شامل تھے ۔ ہندوستان میں اپنی نوعیت کی مثالی درگاہ ایک یونیورسٹی کی حیثیت رکھتی تھی جو ضلع بیدر جو آج ریاست کرناٹک کا حصے میں قائم کیا گیا تھا ۔ کافی حد تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کے باوجود یہ ’’آثار کہہ رہے ہیں، عمارت عظیم تھی‘‘ والی بات اس کی باقیات میں پوری طرح موجود ہے۔ بیدر ایک عظیم تاریخی شہر ہے مگر حکومت کرناٹک نے اس کی ترقی اور تحفظ پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی ۔ اس لئے آج بھی شہر ایک پسماندہ علاقہ لگتا ہے ۔ کچھ سماجی اور تعلیمی تنظیموں نے اس شہر میں تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں جس سے شہر میں تعلیم عام ہوئی، خصوصاً مسلم طبقہ کی تعلیمی شرح میں بھی اضافہ ہوا۔ ان خانگی اداروں میں شاہین گروپ آف ایجوکیشن ایک اہم نام ہے ۔ بیدر میں قائم اس کا پہلا جونیئر کالج مدرسہ محمود گاوان کے مقابل واقعہ ہے ۔ مدرسہ محمود گاوان کی طرح یہ ادارہ بھی اچھے مقاصد اور سچے جذبے سے ملت کی خدمات انجام دے رہا ہے جس سے ملت اور ادارہ دونوں ترقی پارہے ہیں ۔
شاہین ایجوکیشن سوسائٹی اور شاہین گروپ اف انسٹی ٹیوٹشز بیدر کرناٹک ایک ایسی تعلیمی سوسائٹی ہے جو مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کیلئے کوشاں ہے۔ اس سوسائٹی کی تعلیمی سرگرمیوں کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے ایک خصوصی پروگرام تیار کیا ہے جس کے تحت وہ ایسے ذ ہین اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی خواہش رکھنے والے غریب بچوں کو منتخب کرتے ہیں جنہوں نے دینی مدرسہ سے صرف قرآن حفظ کیا لیکن وہ عصری تعلیم کیلئے کسی اسکول میں داخل نہیں ہوئے۔ سوسائٹی ایسے بچوں کو اپنے اقامتی اسکول میںداخل کر کے ان کی عصری تعلیم پر کچھ عرصہ محنت کر کے انہیں راست دسویں کلاس کے امتحان میں بیٹھے کے قابل بناتی ہے اور پھر انٹرمیڈیٹ کے بعد انہیں پروفیشنل کورسس یا ڈگری کورسس میں داخلے دلواتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسی غریب لڑکیوں کو جنہوں نے پانچویں جماعت کے بعد تعلیم ترک کردی انہیں تین سالہ مکمل عالمہ کے کورس میں داخلہ دلاتے ہیں۔ ا پنے اقامتی اسکول میں رکھ کر عالمہ کی تعلیم کے علاوہ انہیں ریاض اور زبانیں بھی پڑھاتے ہیں۔ یہ سوسائٹی کی ایک انوکھی کوشش ہے جس سے سینکڑوں مسلم طلباء و طالبات مفت فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوٹشنز ضلع بیدر کے علاوہ گلبرگہ اور حیدرآباد دکن میں بھی اپنے عام تعلیمی ادارے قائم کر رکھے ہیں جس میں بچوں کو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ مکمل دینی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔

شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوٹشنز کے چیرمین محمد عبدالقدیر ان دنوں سعودی عرب کے مختصر دور سے پر ہیں۔ ان کے دورہ کا مقصد شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوٹشنز میں این آر آئیز کے بچوں کو داخل کرانے کی ترغیب دینا ہے تاکہ این آر آئیز طلباء وطالبات اعلیٰ معیار کی عصری تعلیم کے ساتھ مکمل دینی ماحول میں دینی تعلیم بھی حاصل کرسکیں۔ عبدالقدیر نے این آر آئیز تک اپنا پیام پہنچانے کیلئے مکہ مکرمہ ، جدہ ، مدینہ منورہ ، دمام اور ریاض میں مختلف سماجی تنظیموں کے تعاون سے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا۔
تنظیم ہم ہندوستانی کے تعاون سے جمعہ کی شب ریاض میں بھی محمدعبدالقدیر نے ہندوستانی باشندوں کے ایک بڑے گروپ کو مخاطب کیا جس سے عبدالقدیر چیرمین سوسائٹی کے علاوہ انجنیئر انیس احمد اور معروف ماہر تعلیم حسین ذوالقرنین نے بھی مخاطب کیا اور ملت کیلئے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ ابتداء میں تنظیم ہم ہندوستانی کے جنرل سکریٹری لیاقت علی ہاشمی نے خیرمقدم کرتے ہوئے شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوٹشنز کا تعارف پیش کیا اور اس کی تعلیمی سرگرمیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ عبدالقدیر جو خود بھی ایک این آر آئی رہے ہیں نے اپنے تعلیمی اداروں میں این آر آئیز بچوں کے قیام اور تعلیمی معیار کا خصوصی خیال رکھا ہے جو این آر آئیز بچے یہاں سے وطن میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں وہ عام طور سے دینی تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں جس کے بعد محمد عبدالمتین نے ایک ویڈیو شو پیش کیا جس میں شاہین انسٹی ٹیوٹشنز کی تعلیمی سرگرمیوں کی مکمل تفصیلات پیش کی گئیں۔

اس موقع پر چیرمین شاہین گروپ نے کہا کہ ہندوستانی حکومت اور دیگر مسلم دانشوروں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ہمارے دینی مدارس میں عصری تعلیم کا انتظام کیا جانا چاہئے تاکہ ان مدارس سے فارغ ہونے والے طلباء اپنی عملی زندگی میں روزگار سے بہتر مواقع پاسکیں۔ عبدالقدیر نے کہا ہم نے اعلیٰ معیاری تعلیم کے عصری تعلیمی ادارے قائم کئے اور ان اداروں میں مکمل دینی ماحول پیدا کر کے بچوں کو مکمل دینی تعلیم فراہم کرنے کا انتظام کیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یہ کوشش رہی ہے کہ ہمارے جونیئر کالجس سے فارغ طلباء و طالبات کو گورنمنٹ کالجس میں داخلہ حاصل کرنے کے قابل ہوں جہاں وہ برائے نام فیس پر میڈیسن ، انجنیئرنگ اور دیگر ڈگری کورسس میں بہ آسانی داخلہ حاصل کرسکیں۔ عبدالقدیر نے بتایا کہ 1989 ء میں قائم ان کے تعلیمی ادارے سے اب تک 79 بچوں نے گورنمنٹ میڈیکل کالجس میں داخلہ حاصل کیا اور 355 بچوں نے انجنیئرنگ کالجس اور سینکڑوں طلباء و طالبات نے مختلف گورنمنٹ ڈگری کورسس میں داخلے حاصل کئے ۔ عبدالقدیر نے یہ بھی کہا کہ دیگر ریاستوں اور اضلاع میں مسلمانوں کو اسی طرح کے معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کی خواندگی کی شرح میں اضافہ ہو اور معیار تعلیم بھی بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیگر ریاستوں اور ا ضلاع کے ایسے افراد یا تعلیمی تنظیموں کے ساتھ اپنا تعاون دراز کرنے اور مدد کرنے کیلئے تیار ہیں جو معیاری تعلیمی ادارے قائم کرنا چاہتے ہیں۔
ریاض کی ایک مقامی ریسٹورنٹ میں منعقد اس اجتماع میں این آر آئیز کی ا یک بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ مرزا ارشاد بیگ نے نظامت کے فرائض انجام دیئے اور آخر میں عتیق احمد کے ہدیہ تشکر پر یہ محفل اختتام پذیر ہوئی ۔
knwasif@yahoo.com

Leave a Comment