دبئی ، 27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) لبنان کے شمالی شہر طرابلس میں اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں ایک افسر سمیت کم سے کم چار اہلکار ہلاک ہو گئے۔ سرچ آپریشن کے دوران طرابلس میں السلام اسکول کے احاطے سے فوج نے بارودی مواد سے بھری دو کاریں اور کئی راکٹ بھی قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس غیر معمولی دھماکا خیز مواد کو دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی، جسے ناکام بنا دیا گیا ہے۔ اتوار کو طرابلس میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن میں کئی عام شہری بھی زخمی ہوئے ہیں۔ شمالی شہر التبانہ میں جامع مسجد حربا کے قریب ایک راکٹ حملے میں کم سے کم 10 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں زیادہ بچے بتائے جاتے ہیں۔ ان زخمیوں میں التبانہ شہر میں سرکاری ترجمان الشیخ خالد السید کا بیٹا بھی شامل ہے۔ بحنین شہر میں بھی عسکریت پسندوں کی جانب سے راکٹ حملے کی اطلاعات ہیں جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ مقامی ذرائع کے مطابق لبنانی فوج نے التبانہ شہر میں اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف سرچ آپریشن مزید وسیع کر دیا ہے۔ گذشتہ روز شہرمیں جنگجوئوں کے ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے۔ اس دوران ایک اسکول میں مورچہ زن عسکریت پسندوں کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ کارروائی میں متعدد عسکریت پسند گرفتار کئے گئے ہیں جبکہ کئی دوسرے اسلحہ اور گولہ بارود چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ فوج نے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن منطقی انجام تک جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ ادھر ایک دوسری پیش رفت میں اتوار کو التبانہ شہر کے ایک سرکردہ عسکری کمانڈر فائز العموری کے اغوا کی بھی اطلاعات ہیں۔ العموری کو طرابلس میں عسکریت پسندوں کا اہم رہ نما سمجھا جاتا ہے۔ قبل ازیں ہفتہ کی شام اسی علاقے سے ایک لبنانی فوجی بھی اغوا ہو گیا تھا جس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔ لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق التبانہ شہر میں جھڑپوں کے دوران زخمی ہونے والا ایک بچہ علی الشیخ دم توڑ گیا ہے۔