کشمیر سیز فائر… گولی نہیں میٹھی بولی چاہئے
مودی حکومت کے چار سال … وعدے برقرار ، عوام بدحال
رشیدالدین
’’نہ گالی سے نہ گولی سے بلکہ ہر کشمیری کو گلے لگاکر تبدیلی لائی جاسکتی ہے‘‘ وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال یوم آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے خطاب میں حکومت کی پالیسی کا کچھ اس طرح اعلان کیا تھا۔ نریندر مودی کو کشمیر کے بارے میں سچائی کو سمجھنے میں تین سال لگ گئے تھے کہ وادی میں اگر صورتحال کو پرامن بنانا اور عوام میں اعتماد بحال کرنا ہو تو گالی یا بولی نہیں بلکہ میٹھی بولی کی ضرورت پڑے گی۔ مودی کے لال قلعہ سے اعلان کے باوجود وادی میں گولی کے ذریعہ فوج اور سیکوریٹی فورسس نے صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کی ۔ دنیا میں گولی کے ذریعہ قیام امن کا کوئی بھی تجربہ کامیاب نہیں ہوا ۔ کشمیر میں انکاؤنٹرس کے نام پر نوجوانوں کی نعشیں گرتی رہیں۔ ماؤں کی گود اجڑتی رہی اور سیکوریٹی فورسس سے نفرت میں اضافہ ہوتا گیا۔ حکومت کے چار سال کی تکمیل پر مودی حکومت کو شاید یہ احساس ہونے لگا کہ گزشتہ سال لال قلعہ کی فصیل سے قوم سے کیا گیا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ کشمیری عوام کی نمائندگی کرنے والی جماعتوں کے کل جماعتی اجلاس کے مطالبہ کو تسلیم کرتے ہوئے مرکز نے رمضان المبارک میں یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا۔ دیر آید درست آید کے مصداق یوم آزادی کے وعدے کا کم از کم 9 ماہ بعد خیال تو آیا۔ رمضان المبارک کا احترام کرتے ہوئے فوج اور سیکوریٹی فورسس نے انکاؤنٹرس اور تلاشی مہم روک دی ہے۔ تادم تحریر سیز فائر نہ صرف برقرار ہے بلکہ امن و سکون کے ساتھ رمضان گزر رہا ہے۔ والدین بے خوف ہوکر اطمینان اور سکون کی نیند لے رہے ہیں کیونکہ اس بات کی ضمانت ہے کہ آدھی رات کو فوج دہشت گردوں کی تلاشی کے نام پر دھاوا نہیں کرے گی۔ سیز فائر نے کشمیری نوجوانوں میں تحفظ سلامتی کا احساس پیدا کیا ہے۔ سیز فائر کے حوصلہ افزاء نتائج اور پرسکون رمضان کو دیکھتے ہوئے اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ نریندر مودی حکومت نے چار سال کے دوران کوئی اچھا اور قابل ستائش کام انجام دیا ہے تو وہ کشمیر میں رمضان المبارک کے دوران سیز فائر ہے۔ مرکز اور ریاست میں بی جے پی اقتدار کے سبب فیصلہ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوئی ۔ حکومت کو احساس ہوگیا کہ طاقت کے ذریعہ مسائل حل نہیں کئے جاسکتے۔ سیز فائر سے وادی میں امن و سکون کو دیکھتے ہوئے عہدیداروں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو رمضان کے بعد بھی سیز فائر جاری رکھنے کی صلاح دی ۔ اگر صورتحال میں مزید بہتری آئے گی تو حریت کانفرنس کے قائدین سے مذاکرات پر غور کیا جاسکتا ہے ۔ سیز فائر کا فیصلہ امن کے دشمنوں کو برداشت نہیں ہوا ، لہذا سرحد پر کشیدگی میں اضافہ کردیا گیا۔ سرحد سے متصل آبادیوں پر گولہ باری شروع کی گئی تاکہ خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہو۔ وادی میں بعض اندرونی طاقتوں کو بھی امن کی صورتحال ہضم نہیں ہورہی ہے ۔ ایسے وقت جبکہ وادی میں صورتحال نارملسی کی طرف لوٹ رہی ہے ہر کسی کو حکومت کے مذاکرات کار کی تلاش ہے۔ مرکز نے فریقین سے مذاکرات کیلئے انٹلیجنس بیورو کے ریٹائرڈ عہدیدار کو مذاکرات کار کے طور پر مقرر کیا تھا ۔ سیز فائر کے بعد مصالحت اور مذاکرات کا عمل شروع کیا جانا چاہئے ۔ سیز فائر کی کامیابی سے یہ ثابر ہوگیا کہ کشمیری عوام امن پسند ہیں اور دہشت گردی سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ سیز فائر کے دوران رمضان المبارک میں فوج میں بھرتی کا کیمپ لگایا گیا جس میں سینکڑوں نوجوانوں نے روزہ کی حالت میں شرکت کی اور ملک پر جان نچھاور کرنے کا عزم کیا۔ مرکز اور ریاست کی حکومتوں کو ضرور یہ اندازہ ہوا ہوگا کہ وادی میں بیروزگاری اہم مسئلہ ہے۔ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرتے ہوئے گھروں میں خوشحالی لوٹا دی جائے تو کوئی بھی طاقت بھولے بھالے عوام کو بہکانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ جس طرح کشمیر میں سیز فائر کے ذریعہ نارملسی کی کوشش کی گئی ، دنیا کے ان ممالک کیلئے یہ سبق ہے جو رمضان میں بھی فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ امید کی جارہی ہے کہ جس طرح اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ نے وادی میں مذاکرات کی مساعی شروع کی تھی ، نریندر مودی اسے آگے بڑھائیں گے۔
لاکھ ناکامیوں کے باوجود کشمیر میں قیام امن مودی حکومت کا اہم کارنامہ تصور ہوگا ۔ اس کا انحصار وزیراعظم کی سنجیدگی اور بی جے پی اور سنگھ پریوار کے تعاون پر رہے گا۔ گزشتہ 10 دن سے وادی میں عوام بھی صورتحال سے خوش ہیں اور انہیں یقین ہے کہ یہ حالات دیرپا ثابت ہوں گے اور مستقل قیام امن کیلئے ٹھوس مساعی کی جائے گی۔
نریندر مودی زیر قیادت بی جے پی حکومت نے چار سال مکمل کرلئے ہیں۔ چار سال کی تکمیل کسی بھی حکومت کیلئے معمولی بات نہیں۔ اگر یوں کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ چار سال کی تکمیل کے بعد انتخابات کی تیاری میں ہر کوئی مصروف ہوجاتا ہے ۔ حکومت کے کارنامے یا ناکامیاں چار سال میں طئے کی جاتی ہیں۔ نریندر مودی نے انتخابی مہم کے دوران جو وعدے کئے تھے ، ان کی تکمیل توکجا عوام کیلئے مزید ابتر حالات پیدا کردئے گئے ہیں۔ اچھے دن کا وعدہ چار سال میں عوام کے لئے ایک بھیانک خواب ثابت ہوا ۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس کا نعرہ محض چند صنعتی گھرانوں کے مفاد میں رہا ۔ بی جے پی سے قربت رکھنے والے صنعت کاروں نے ملک کی دولت کو لوٹ کر راہِ فرار اختیار کی ۔ تمام کو امید تھی کہ مودی حکومت حقیقی معنوں میں تبدیلی لائے گی۔ عوام کی زندگی میں تبدیلی تو نہیں آئی لیکن صنعتی گھرانوں اور سنگھ پریوار کے اچھے دن ضرور آئے ۔ مودی نے ’’کھاؤںگا نہ کھانے دوں گا‘‘ کا نعرہ لگایا تھا لیکن عوام کو کیا پتہ کہ وہ عوام سے کھایا ہوا بھی نکال لیں گے۔ 15 لاکھ ہر اکاؤنٹ میں جمع کرنے کا وعدہ تھا لیکن مودی نے کچھ ایسا کرشمہ دکھایا کہ عوام خود قطاروں میں ٹھہر کر اپنی رقم بینک میں جمع کرانے لگے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا اور عام آدمی کی زندگی اجیرن بن گئی ۔ سال میں دو لاکھ روزگار فراہم کرنے کے بجائے چار سال میں لاکھوں افراد کو بیروزگار کردیا گیا۔ پٹرول کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جبکہ اگر حکومت چاہے تو قیمت پر قابو پاسکتی ہے۔ عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمت میں کمی کے موقع پر مرکز نے تیل کی قیمت کو کم نہیں کیا۔ آنے والے دنوں میں سعودی عرب ایشیائی ممالک کو تیل کی سپلائی کم کردے گا اور ایران پر امریکی تحدیدات سے ہندوستان کو درآمدات میں کمی آئے گی ۔ ہوسکتا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ ہو۔ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں ٹیکسوں میں کمی کے ذریعہ عوام کو راحت پہنچانے کا منصوبہ ہے جو انتخابی تیاریوں کی نشانی ہے۔ مودی کے چار سال میں جارحانہ فرقہ پرست عناصر کو کھلی چھوٹ دیدی گئی ۔ عدم رواداری عروج پر تھی ۔ گاؤ رکھشا اور لو جہاد کے نام پر بے قصوروں کا خون بہایا گیا۔ اخلاق سے لے کر تین طلاق قانون تک نریندر مودی حکومت کے یہ ایسے رسیاہ ہیں کہ جنہیں انسانیت فراموش نہیں کرپائے گی ۔ مودی اپنے بیرونی مہمانوں کے ساتھ دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموںکی مذمت کرتے ہیں۔ اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن ملک میں جارحانہ فرقہ پرست تنظیمیں بھی دہشت گرد تنظیموں سے کچھ کم نہیں۔ داعش اور دیگر عالمی دہشت گرد تنظیمیں ہیں تو اندرون ملک کی جارحانہ فرقہ پرست تنظیمیں قومی سطح کی ہیں۔ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے جو عالمی تنظیموں کے ساتھ کیا جارہا ہے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ملک میں حکمرانی سنگھ پریوار کی ہے جو ہندو راشٹر کے ایجنڈہ پر تیزی سے گامزن ہے۔ چار سالہ کارکردگی کے بارے میں مودی اور ان کے حواری لاکھ دعوے کرلیں لیکن آئندہ انتخابات میں ملک کے رائے دہندے نوٹ بندی ، جی ایس ٹی سے لیکر جارحانہ فرقہ پرستی کے ہر قدم کا حساب لیں گے۔ ڈاکٹر راحت اندوری نے کیا خوب کہا ہے ؎
ضمیر ان کے بڑے داغدار نکلیں گے
جو پھر رہے ہیں یہ چہرے دھلے دھلائے ہوئے