بہار میں 6 نشستوں پر کامیابی ، کرناٹک میں کانگریس نے باوقار بیلاری نشست بی جے پی سے چھین لی ، مودی لہر بے اثر
نئی دہلی ۔ 25 اگست ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) لوک سبھا انتخابات میں متاثر کن مظاہرہ کے صرف تین ماہ بعد اسمبلی کے ضمنی انتخابات میں بی جے پی کو زبردست دھکہ پہونچا ۔ بہار میں آر جے ڈی ۔ جنتادل ( یو ) ۔ کانگریس اتحاد نے بی جے پی کو 6-4 سے شکست دی جبکہ کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں بھی طاقتور گڑھ تصور کئے جانے والے حلقے کانگریس کے حق میں چلے گئے ۔ پنجاب میں حکمراں شرومنی اکالی دل اور کانگریس کو ایک ایک نشست پر کامیابی ملی ۔ چار ریاستوں میں 18 نشستوں پر 21 اگست کو ضمنی انتخابات ہوئے تھے ۔ کانگریس اور اُس کے حلیفوں نے 10 پر کامیابی حاصل کی جبکہ 7 نشستوں پر بی جے پی اور ایک پر اس کی حلیف شرومنی اکالی دل کو کامیابی ملی ۔ ان چار ریاستوں میں ضمنی انتخابات دراصل بی جے پی کی مقبولیت کا امتحان تھے جس میں وہ ناکام ثابت ہوئی اور مودی لہر بے اثر ثابت ہوئی اس سے پہلے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے بہار میں 40 کے منجملہ 33 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی ۔ بہار میں حکمراں جنتادل ( یو ) اور آر جے ڈی کے علاوہ کانگریس پر مشتمل سیکولر اتحاد نے راج نگر ، چھاپرا اور محی الدین نگر کے علاوہ جالے اور پربتا ، بھاگلپور میں کامیابی حاصل کی ۔ کانگریس نے بھاگلپور نشست کو بی جے پی سے چھین لیا جبکہ جنتادل ( یو ) نے بی جے پی کی حلیف رام ولاس پاسوان کی ایل جے پی کو پربتا سے شکست دی ۔ اس کامیابی سے سرشار جنتادل ( یو ) لیڈر نتیش کمار نے کہا کہ رائے دہندگان نے نریندر مودی حکومت سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ یہ اتحاد مزید وسعت اختیار کرے گا اور اس میں بائیں بازو جماعتوں کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ بی جے پی کے فرقہ پرستانہ ایجنڈے کو روکا جاسکے۔ بی جے پی نے دوسری طرف ضمنی انتخابات کے نتائج کو مودی حکومت کی کارکردگی کا مظہر قرار دینے سے انکار کیا ہے۔ بی جے پی ترجمان شاہنواز حسین نے کہا کہ بہار کے داخلی عوامل کی وجہ سے پارٹی کا مظاہرہ ناقص رہا اور ریاستی قائدین اس کی مکمل ذمہ داری قبول کرتے ہیں ۔ بی جے پی نے 2010 ء انتخابات میں جنتادل ( یو ) سے اتحاد کیا تھا لیکن گزشتہ سال یہ اتحاد ختم ہوگیا۔ بی جے پی صرف 4 نشستوں پر کامیابی حاصل کرپائی ۔ یہ انتخابی نتائج حکمراں جنتادل ( یو ) کے لئے حوصلہ افزاء ثابت ہوئے جسے بہار اسمبلی میں خاطر خواہ اکثریت حاصل ہے ۔ کرناٹک میں حکمراں کانگریس نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی ان میں باوقار بیلاری (رورل ) بھی شامل ہے جس پر بی جے پی کا قبضہ تھا ۔ اس حلقہ سے کانگریس امیدوار این وائی گوپال کرشنا نے 33,104 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ۔ اس سے پہلے بی سری راملو اس حلقہ کی نمائندگی کرتے تھے اور انھوں نے لوک سبھا کیلئے منتخب ہونے کے بعد یہاں سے استعفیٰ دیدیا تھا ۔ سری راملو کو کبھی کانکنی کی بااثر شخصیت اور سابق وزیر جناردھن ریڈی کا بااعتماد ساتھی سمجھا جاتا تھا ۔ شکاری پورہ حلقہ سے بی جے پی اپنی نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ۔ یہاں سابق چیف منسٹر اور موجودہ پارٹی قومی نائب صدر بی ایس یدی یورپا کے لڑکے بی وائی راگھویندرا صرف 6430 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کرسکے ۔ یہ انتخابی نتائج چیف منسٹر سدا رامیا کیلئے حوصلہ افزاء ثابت ہوئے جنھیں اندرون پارٹی مخالفت کا سامنا ہے ۔ پنجاب میں باوقار پٹیالہ ( اربن ) حلقہ سے سابق چیف منسٹر امریندر سنگھ کی اہلیہ پرنیت کور نے کامیابی حاصل کی ۔ عام آدمی پارٹی جس نے پنجاب میں 13 کے منجملہ 4 لوک سبھا نشستوں پر کامیابی حاصل کرتے ہوئے سب کو حیران کردیا تھا ، پٹیالہ ( اربن ) سے اُس کا امیدوار ضمانت بھی نہیں بچاسکا۔ اسمبلی ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد آر جے ڈی صدر لالو پرساد یادو اور جنتادل ( یو ) لیڈر نتیش کمار نے آئندہ سال ریاستی اسمبلی انتخابات میں اتحاد کو وسعت دینے کا اشارہ دیا ۔ ریاستی آر جے ڈی صدر رام چندر پوربے نے لالو پرساد یادو کے حوالے سے کہا کہ جو اس وقت ممبئی کے ہاسپٹل میں شریک ہیں ، یہ اتحاد اسمبلی انتخابات میں بھی برقرار رہے گا ۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارا اتحاد کاتجربہ کامیاب رہا اور رائے دہندوں نے بی جے پی کے حقیقی کردار کو پہچان لیا ہے ۔ انھیں یہ اندازہ ہوگیا کہ بی جے پی سیاسی پارٹی نہیں بلکہ اقتدار حاصل کرنے کیلئے وہ مذہبی جنونیت اور فرقہ پرستی کو ہوا دیتی ہے ۔ سینئر کانگریس لیڈر ڈگ وجئے سنگھ نے کہا کہ اسمبلی ضمنی انتخابات کے نتائج نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ نام نہاد مودی لہر ختم ہوتی جارہی ہے ۔ عوام کو یہ اندازہ ہوگیا ہے کہ انھیں نام نہاد گجرات ماڈل اور مودی کی شخصیت کے ذریعہ بیوقوف بنایا گیا ۔ موجودہ حکومت نے گزشتہ 70 دنوں کے دوران کوئی کام نہیں کیا ، سوائے اس کے کہ یوپی اے حکومت نے جن پراجکٹس پر عمل کیا تھا اُن کا افتتاح کرتے ہوئے سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کی ۔