ضلع کریم نگر میں انجینئرنگ اور فارمیسی کے 13 کالجوں کی مسلمہ حیثیت ختم

کریم نگر17 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ ریاستی حکومت کے کچھ سخت اہم فیصلوں کے نتیجہ میں کریم نگر ضلع میں 13 فنی تربیتی تعلیم کے کالجوں کے قانونی تسلیم شدہ مسلمہ حیثیت ختم کردی گئی ہے اس سے 7 انجینئرنگ کالج 6 فارمیسی کالج شامل ہیں، ان 13 کالجوں میں داخلہ نہیں ہوگا ،ضلع میں 8136 نشستوں میں سے 3240 انجینئرنگ نشستوں کی کمی ہوچکی ہے اس طرح سے 6 فارمیسی کالجوں میں 750 نشستوں کی کمی ہوچکی ہے ۔ اس لئے کہ 6 فارمیسی کالجوں کی مسلمہ حیثیت کی تجدید نہیں ہوپائی ہے ،اب ان مسلمہ حیثیت ختم ہوجانے والے کالجوں کے نام ویب آپشن سے خارج کردیئے گئے ہیں، ضلع میں سری چیتنیا کالج آف انجینئرنگ کریم نگر سری چیتنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی سائنس کریم نگر سہاجا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی سائنس فار ویمن ریکرتی سندور کالج آف انجینئرنگ ٹکنالوجی گوداوری کھنی ٹرینی کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی پدا پلی ٹریٹٹی کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹکنالوجی کریم نگر ویویکا نندہ انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اینڈ سائنس کریم نگر کالجوں کی مسلمہ حیثیت کی تجدید نہیں ہوپائی ہے اس طرح سے سری چیتنیا انسٹی ٹیوٹ آف فارماسیوٹکل سائنس کریم نگر ،سی وی ایم کالج آف فارمیسی کریم نگر ،سی وی ایم کالج آف فارمیسی کریم نگر سری بالاجی کالج آف فارمیسی چپہ ڈنڈی شانتا انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی سائسن حضور آباد ،ایس آر آر کالج آف فارما ٹیکل سائنس ایلکا ترتی واگٹوری انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی کریم نگر کالج کی مسلمہ حیثیت ختم کردی گئی ہے اس سال متذکرہ کالجوں میں داخلے نہیں رہیں گے ۔ ان کالجوں کی مسلمہ حیثیت مختلف وجوہات کی وجہ سے رد کردی گئی ہے ان کالجوں میں تعلیم کے معیار پر توجہ دینے کے بجائے محض حکومت کے فیس ریمبرسمنٹ سے استفادہ کیلئے کالجوں کو چلایا گیا۔ حکومت کی جانب سے جو بھی قاعدے قانون کی عمل آوری تھی اس پر عملکیا جائے گا کالج میں درس دینے کے لئے کوئی اساتذہ نہیں ایک لائبریری کتب کے نہ ہونے اور کالج کیلئے درکار ضروری جگہ کا نہ ہونا ہر انجینئرنگ کالج کے قیام کیلئے 10 ایکر ،فارمیسی کیلئے دو ایکر زمین کا ہونا ضروری ہے ۔ ایم بی اے ایم سی اے کالج کیلئے ایک ایکر زمین ہونا چاہئے اور طلباء کی تعداد کی گنجائش کے حساب سے عمارت تربیتی عملہ لیاب لائبیری دیگر ضروری آلات وغیرہ ہونا چاہئے ۔یہاں ایک کالج کیلئے جگہ خریدی جاکر اس کے کاغذات بتلا کر اجازت حاصل کرلینے کے بعد اس زمین کو بتلا تے ہوئے ایک اور کالج کی اجازت حاصل کرلی گئی ۔ ۔۔۔۔ عہدیدار اس طرح کی دھاندلیوں کو نظر انداز کردینے کی وجہ سے چار پانچ کالجوں کی اجازت حاصل کرلی گئی جس کی وجہ سے ان کالجوں میں فنی تعلیم کا معیار انتہائی نچلے درجہ کا ہوچکا ہے ۔ان کالجوں سے حاصل کردہ سرٹیفکیٹ کا کسی بھی یم نگر کے ان کالجوں کی تنقیح پر تعجب خیز معلومات سامنے آگئے ۔

پدا پلی کریم نگر انجینئرنگ کالجوں کے ساتھ فارمیسی کالجوں کے اجازت نامہ منسوخ کردیئیگ ئے ہیں ۔ ویویکا نندا کے ایک کالج کی اجازت منسوخ کروائی جاکر ایک کالج کی تجدید کردی گئی ہے ۔جوتشی فارمیسی کالج کا اجازت نامہ بھی رد کردیا گیا ۔ فی الحال 10انجینئرنگ کالجوں اور 5 فارمیسی کالجوں کے اجازت ناموں کی تجدید کردی گئی ہے جوتشی انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی سائنس کریم نگر (جے ایم ٹی کے )۔ جوتشی انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اینڈ سائنس 2 کریم نگر (جی ایم ٹی ایس ) جے این ٹی یو انجینئرنگ کالج کریم نگر (کوڈمیال ) جے این کے آر )، جے این ٹی یو انجینئرنگ کالج منتھنی (جے این ٹی ایم ) کملا انسٹی ،کملا انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی اینڈ سائنس حضور آباد ( کے ٹی کے ایم )مدر ٹریسا کالج آف انجینئرنگ اینڈٹکنالوجی پدا پلی ( ایم ٹی ایم سی ) ،لنگما انجینئرنگ کالج کریم نگر (این جی ایم اے)،واگیشوری انجینئرنگ کالج کریم نگر (وی ای سی کے )واگیشوری کالج آف انجینئرنگ کریم نگر (وی جی ایس او) ،ویویکا نندہ انسٹی ٹیوٹ ٹکنالوجی اینڈ سائنس بوماکل ۔۔۔۔۔۔۔، سری چیتنیا انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی سائنس کریم نگر سی ایچ ٹی پی ،جوتشی ۔۔۔۔۔ انسٹی ٹیوٹ آف فارمیسی سائنس کریم نگر (جے ایم آئی بی) شاتاوہانہ یونیورسٹی فارمیسی کالج ( ایچ وی ایچ او)،شاتاوہانہ یونیوسٹی سابقہ فینانس فامریسی کالج ( ایس وی ہیچ یو ایس این )واگیشوری کالج آف فامیسی ( وی جی ایس سی )