مدن پلی/8 مئی ( محمد اشرف کی رپورٹ ) ضلع چتور می ںرائے دہی کا بروز چہارشنبہ پُرسکون اختتام ہوا ۔ ضلع بھرمیں ایک دو واقعات کے علاوہ ضلع انتظامیہ نے ٹھنڈی سانس لی ۔ تروپتی میں وائی ایس آر کانگریس کے امیدوار کروناکر ریڈی اور ٹی ڈی پی کے امیدوار وینکٹ رمنا کے درمیان ہاتھا پائی کا واقعہ شرمناک رہا ۔ ایک دوسرے کے گریباں پکڑ کر غنڈوں کی طرح پیش آنا اور ان کے حامیوں کے درمیان ہاتھا پائی سے پولیس کو اپنا کام کرنا پڑا ۔ مدن پلی میں رائے دہی پُر امن ہوئی ۔ یہاں پر ٹی ڈی پی کے بجائے بی جے پی کے امیدوار نرسمہا ریڈی اور وائی ایس آر کانگریس کے ڈاکٹر تپاریڈی کے علاوہ جئے سمیکھا آندھراپردیش کے امیدوار نریش کمار ریڈی اور کانگریس کے امیدوار شاہ جہاں پاشاہ کے درمیاں کڑا مقابلہ رہا ۔ بی جے پی کے امیدوار کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے نریندر مودی کو مدن پلی لایا گیا اور جلسہ عام کا اہتمام کیا گیا جس کی وجہ سے نرسمہا ریڈی کی مقبولیت بڑھتی نظر آئی ۔ کانگریس کے امیدوار جو کونسل کے رکن بھی ہیں اپنی کامیابی کو پہلے سے ہی یقینی سمجھے تھے ۔ مدن پلی سے وائی ایس آ رکانگریس سے مسلم اقلیت کافی امیدویں لگارکھی تھیں ۔ چونکہ یہاں پر مسلم اقلیت بادشاہ گر موقف رکھتی ہے ۔ گذشتہ انتخابات میں بھی مسلم امیدوار نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ ڈاکٹر تپاریڈی ایم ایل سی رہنے کے باوجود ایم ایل اے کیلئے ضد کرکے جگن موہن ریڈی کو منانے میں کامیاب ہوئے اور اس فیصلہ سے مسلم اکثریت ناراض بھی ہوئی جس کا اثر پولنگ میں صاف نظر آیا ۔ ضلع چتور سے گذشتہ انتخابات میں کانگریس سے کامیابی حاصل کئے ہوئے ایم ایل اے پورے وائی ایس آر اور تلگودیشم میں شمولیت اختیار کئے ۔ صرف مدن پلی کے رکن اسمبلی شاہ جہاں باشاہ کانگریس سے جڑے ہوئے ہیں اور اپنی قسمت آزمارہے ہیں ۔ تلگودیشم کے امیدوار میدان میں نہ رہنا اور بی جے پی ، جے ایس پی اور وائی ایس آر کانگریس میں تینوں پارٹیوں نے ایک ہی سماجی طبقہ سے یعنی Reddy سماجی طبقے کے امیدواروں کا انتخاب کرنا پسماندہ طبقوں کو ہضم نہیں ہوپایا ۔ امید کی جاتی ہے کہ پسماندہ طبقات کا بڑا حصہ کانگریس کے امیدوار شاہ جہاں باشاہ کو ووٹ دیا ہے ۔ ہر امیدوار اپنی کامیابی یقینی بتارہے ہیں ۔ سابق وزیر اعلی کرن کمار ریڈی کیلئے بھی یہ انتخابات زیادہ اہمیت رکھتی ہیں ۔ اپنے اسمبلی حلقہ Piler کی ترقی کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ پنچایت رہنے کے باوجود پیلر حلقہ کافی ترقی کرگیا ۔ اسی حلقہ میں JNTU انجینیرنگ کالج ، Sainik School جیسے ادارے ، پکی سڑکیں اس کے علاوہ کرن کمار ریڈی سے وابستہ ہر کوئی فائدہ اٹھایا ہے ۔ اسی لئے یہاں پر ان کے برادر کشن کمار ریڈی عرف کشور کی سبقت یقینی نظر آرہی ہے ۔ یہاں پر تلگودیشم نے اقلیتی امیدوار ڈاکٹر اقبال احمد کو موقع دیا ہے ۔ جو یونانی ڈاکٹر ہیں ۔ وائی ایس آر نے سابق رکن اسمبلی سی رام چندرا ریڈی کو اپنا امیدوار بنایا ۔ کاگنریس نے سابق رائل سیما ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیرمین ایم سیف اللہ بیگ کے خاندان کے ڈاکٹر شاہنواز کو موقع دیا ۔ چندرا گری اسمبلی حلقہ جہاں پر سابق وزیر ارونا کماری جو کانگریس سے ناطہ توڑ کر تلگودیشم سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں وہاں پر وائی ایس آر کے امیدوار سی بھاسکر ریڈی سے کڑا مقابلہ کر رہی ہیں ۔ چندرا بابو نائیڈو کے آبائی مقام ہونے کی وجہ سے یہاں پر تھوڑی کشیدگی رہی اور میڈیا پر بھی حملہ کیا گیا ۔ چندرا بابو نائیڈو کے حلقہ اسمبلی میں بھی رائے دہی پرامن رہی ۔ یہاں پرامن کے مقابلہ میں IAS آفیسر موظف چندرا مولی اپنی قسمت آزما رہے ہیں ۔ ان کے علاوہ پنگنور سے سابق وزیر پدی ریڈی رام چندرا ریڈی جو کرن کمار کی سخت مخالفت کرنے والے اور وائی ایس آر میں اہم رول ادا کرنے والے لیڈر ہیں ۔ اپنی کامیابی یقینی مانتے ہیں ۔ نگری میں سابق وزیر مدوکرشنا نائیڈو تلگودیشم سے اداکارہ روجا جو وائی ایس آر امیدوار ہیں کے درمیان کڑا مقابلہ رہا اور دونوں اپنے کامیابی کا ادعا کر رہے ہیں ۔ حلقہ پارلیمان میں وائی ایس آر کے امیدوار متھن ریڈی اور بی جے پی سے سابق مرکزی وزیر پورندیشوری کے درمیان کڑا مقابلہ رہا ۔ پریندیشوری اپنا پرچہ نامزدگی داخل کرنے کے بعد ہر جگہ کا دورہ کیا اور لوگوں سے اپنی شناخت بنانے میں کامیاب نظر آرہی ہیں ۔ متھن ریڈی گذشتہ چار سال سے حلقہ پارلیمان میں اپنا گروہ بناکر رکھی ہے ۔ اس انتخابات میں نوجوان نسل نے اپنے رائے دہی کا حق کثیر تعداد میں استعمال کیا جسکی وجہ سے 78 فیصد سے زائد پولنگ ہوئی ۔