عوامی خدمات شدید متاثر، فلاحی اسکیمات مستحقین تک پہنچنے میں دشواری
محبوب نگر۔/15فبروری، ( ایم اے مجیب کی رپورٹ ) نظم و نسق کی بہتر کارکردگی کیلئے تمام محکموں میں مطلوبہ عہدیداروں کا ہونا ضروری ہے۔ محبوب نگر جوکہ تلنگانہ کا سب سے بڑا ضلع ہے اور پسماندگی کے اعتبار سے بھی سب سے بڑا ضلع مانا جاتا ہے۔ ضلع میں اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ساتھ درمیانی اور نچلی سطح کے عہدے بھی بڑی تعداد میں مخلوعہ ہیں جس کے نتیجہ میں عوامی خدمات بری طرح متاثر ہیں اور حکومت کی فلاحی اسکیمات سے عوام کما حقہ استفادہ سے محروم ہیں۔ ریاستی حکومت تمام محکمہ جات سے مخلوعہ جائیدادوں کی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ طلب کرنے کی اطلاعات ہیں۔ سرکاری محکمہ جات میں محکمہ مال ایک بڑا اور اہم محکمہ ہے۔ عوام کو پیدائش سے لیکر موت تک وقفہ وقفہ سے اس محکمہ سے رجوع ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ضلع میں 77تحصیلداروں کے منجملہ 13 تحصیلداروں کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ ہر آر ڈی او آفس میں ڈیویژنل اڈمنسٹریشن آفیسر کا عہدہ ہوتا ہے لیکن محبوب نگر ، ناگرکرنول، آر ڈی او آفس میں یہ پوسٹس خالی ہیں۔ محبوب نگر، ناگرکرنول، نارائن پیٹ میں کے آر آر سی کے تحصیلداروں کی جائیدادیں بھی خالی ہیں جبکہ بلمور ، تلکا پلی، دھرور، گدوال، لدکل اور کلٹریٹ کے سی سیکشن تحصیلداروں کے عہدے بھی خالی ہیں۔ اس طرح 4نائب تحصیلدار، 24 سینئر اسسٹنٹس، 12گرداور، 40وی آر اوز کی جائیدادیں بھی مخلوعہ ہیں۔ اس کے علاوہ 10 جونیر اسسٹنٹس، 10ٹائپسٹس اور 20اٹینڈرس کی جائیدادیں بھی خالی پڑی ہیں۔ محکمہ خزانہ پر نظر ڈالی جائے تو ضلع میں ایک ڈی ٹی او اور 14 سب ٹریژریز دفاتر میں سینئر اسسٹنٹس 39،کیاشئیر 8 اور ایک ایس ٹی او 2جونیر اسٹنٹس، 8اٹنڈرس، محکمہ ہاوزنگ میں جوکہ غریب عوام کو مکانات فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے اس میں بھی اسسٹنٹ انجینئرس کی 28جائیدادیں اور ڈپٹی ایکزیکیٹو انجینئرس کی 4اور ایکزیکیٹو انجینئرس کی 3 ، منیجر کی ایک، اسسٹنٹ منیجر کی ایک، سینئر اسسٹنٹس کی 6 اور اسپیشل کلکٹر لینڈ ایکوائزیشن کے محکمہ میں ایک اسپیشل کلکٹر، 4نائب تحصیلدار، 3سینئر اسسٹنٹس اور ایک آفس سب آرڈینیٹس پر ہی مستقل عہدیدار کام کررہے ہیں جبکہ 100جائیدادوں پر آؤٹ سورسنگ عہدیداروں کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ سروے لینڈ ریکارڈز محکمہ میں 15سرویئرز 29 ڈپٹی سرویئرس کی جائیدادیں خالی ہیں۔ جبکہ کارگذار 10سرویئرز کی خدمات بھی دیگر اضلاع کیلئے استعمال کی جارہی ہیں۔ محکمہ تعلیمات : ضلع میں 580 ہائی اسکولس، 582 یو پی ایس اور 2790 پرائمری اسکولس موجود ہیں ۔ تعلیمی میدان میں ترقی کرنے کا اور مسائل کو حل کرنے حکومت بڑے بڑے دعوے کررہی ہے تو دوسری طرف ضلع میں 1600ٹیچرز کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ اس کے علاوہ 64 منڈلوں میں سے صرف 14منڈلس میں ہی ریگولر ایم ای اوز برسر خدمت ہیں۔ محکمہ صحت میں 50میڈیکل آفیسرس کے ساتھ دیگر ملازمین کی 250 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ ولیج سکریٹریز، محکمہ پنچایت راج میں1331 گرام پنچایتوں میں صرف770 سکریٹریز ہی کام کررہے ہیں۔ باقی تمام جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ محکمہ زراعت میں اگریکلچر ایکسٹنشن آفیسرس و دیگر اسٹاف کل ملا کر 138 جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ ریاستی حکومت مشن کاکتیہ اسکیم کے تحت تالابوں اور کنٹوں کی مرمت کا جو کام کروارہی ہے اس میں انجینئرنگ اسٹاف کی قلت کے پیش نظر ریٹائرڈ انجینئرس کی خدمات حاصل کرنے کیلئے جی او جاری کرچکی ہے جس میں انجینئرس کی عمر کی حد 65 سال مقرر تھی۔ صرف 15 ریٹائرڈ انجینئرس ہی رجوع ہوئے۔ حکومت نے 10فبروری کو نیا جی او جاری کرتے ہوئے تقرر کیلئے عمر کی حد ختم کردی ہے اور بلالحاظ عمر انجینئرس کے تقررات کے مواقع فراہم کئے ہیں۔ ان انجینئرس کو ماہانہ 25 ہزار روپئے تنخواہ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ محکمہ جنگلات، آبکاری، فائر اور دیگر کئی محکمہ جات میں بھاری تعداد میں جائیدادیں خالی رہنے کی اطلاع ہے۔ ایک طرف حکومت عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کیلئے اقدامات کرنے کا مسلسل اعلان کرتی آرہی ہے لیکن دوسری طرف مخلوعہ جائیدادوں کی زبردست تعداد کو دیکھتے ہوئے سنہرا تلنگانہ ابھی کافی دور نظر آرہا ہے۔ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات سے عوام کے ڈھیروں بنیادی مسائل مناسب انداز میں حل ہوسکتے ہیں اور حکومت کی فلاحی اسکیمات سے مستحقین کی بڑی تعداد استفادہ کرسکتی ہے۔