عادل آباد ۔ 12 ۔ جون ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ضلع عادل آباد کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے منیچریال یا بیلم پلی کو ضلع بنانے کی صورت میں ضلع عادل آباد معاشی اعتبار سے مزید پسماندگی کا شکار ہو کر رہیگا ۔ ضلع کی آمدنی کا زیادہ تر انحصار منیچریال ڈیویژن میں شمار کیا جاتا ہے ۔ جس کی اصل وجہ ہے کہ منچریال ریونیو ڈیویژن میں 1956 میں کوئلے کی کانوں کا آغاز کیا گیا ۔ مندامری ، بیلم پلی ، سری رام پور میں 14 عدد کالا سونا اُگلنے والی کوئلے کے کان ہیں جہاں یومیہ 35 ہزار افراد خدمات انجام دیتے ہوئے سالانہ 70 لاکھ ٹن کوئلہ حاصل کیا جاتا ہے جو آمدنی کا بڑا حصہ ہے ۔ 1905 ء میں علی عادل بادشاہ کے نام پر قائم کیا گیا عادل آباد کے کاغذنگر ، سرپور پیپرملز کا 1942 ء میں قیام عمل میں لایا گیا ۔ 1946 ء میں سرسلک ملز قائم کی گئی تھی جو 1990 ء میں بند کردی گئی ۔ ضلع عادل آباد جعفرافیائی اعتبار سے کافی عریض و طویل شمار کیا جاتا ہے ۔ باسر تا بیجور تقریباً 260 کلو میٹر کا فاصلہ ہے ۔ بیجور ، کوٹھالہ ، سرپور (T) رہے گاوں ، بھنجی ، ویمنا پلی ، کاغذ نگر ، کوٹاپلی ، جے پور ، وانکڑی ، تریانی اور تانور ، کوبیر منڈل جات کے افراد کو ضلع کا صدر مقام عادل آباد آنے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ آمد و رفت میں 14 تا 18 گھنٹہ درکار ہوتے ہیں ۔ عوامی دشواریوں کے پیش نظر تقریباً 20 سال سے ضلع کو دو حصوں میں منقسم کرنے منیچریال ، آصف آباد ڈیویژن کے قائدین کی جدوجہد جاری تھی ۔ تلگودیشم کے بانی آنجہانی مسٹر این ٹی راماراؤ ، سابق چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو ، کانگریس کے آنجہانی چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراو نے بھی انتخابی مہم کے دوران منیچریال کو ضلع کا درجہ دینے عوام کو تیقن دیا تھا ۔ ہر پانچ اسمبلی حلقہ پر ایک ضلع بنانے کے منصوبہ کے تحت ریاست تلنگانہ چیف منسٹر سے ملنے والے اشارہ کی بنیاد پر ضلعی عہدیدار چند دنوں سے سرگرم عمل ہوتے ہوئے منچریال ڈیویژن کی سرکاری مخلوعہ اراضی کی نشاندہی کررہے ہیں تاکہ ان مقامات پر سرکاری دفاتر کی تعمیر کی تجویز حکومت کو ترسیل کی جاسکے ۔ منچریال مستقر سے تقریباً پانچ کیلو میٹر کے فاصلہ پر موجودہ موضع گوڈی پیٹا جہاں 194 ایکڑ اراضی 13 بٹالین پولیس کیلئے مختص کی گئی تھی ۔ علاوہ ازیں مزید 200 ایکڑ اراضی کی نشاندہی کر لی گئی ہے ۔ جبکہ بیلم پلی میں 1800 ایکڑ اراضی حکومت کی مخلوعہ پائی جارہی ہے ۔ چند سیاسی قائدین بیلم پلی کو ضلع کا درجہ دلانے کیلئے کوشاں ہیں ۔ منچریال یا بیلم پلی کو ضلع بنانے کی صورت میں آصف آباد ڈیویژن کے تمام منڈل جات کے علاوہ اوٹنور ڈیویژن کے وانکڑی ، تریانی منڈل جات کو شامل کر لیا جائے گا ۔ جبکہ عادل آباد ضلع میں عادل آباد ، نرمل ریونیو ڈیویژن کے علاوہ اوٹنور ڈیویژن کے اوٹنور ، اندرو پلی ، نارنور ، جئے پور ، سرپور (V) کیرا میری منڈل جات شامل رہیں گے ۔ 73 سال قبل 1941 میں ضلع عادل آباد کو ضلع کا درجہ دیتے ہوئہے صدر مقام بنایا گیا ۔ قبل ازیں 1914 میں آصف آباد ، عادل آباد کا ضلع تصور کیا جاتا تھا ۔ نظام حکومت کی جانب سے 1932 ء میں بس سرویس کا آغاز کیا گیا تھا جبکہ 1958 ء میں آر ٹی سی بسیں سڑکوں پر دوڑنے لگے ۔ ریلوے لین بچھاتے ہوئے نظام حکومت میں عوام کی سہولتوں کی خاطر ٹرین سرویس بھی شروع کی گئی ۔