نرمل۔/17مئی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) نئی ریاست تلنگانہ میں جہاں ٹی آر ایس کی طوفانی لہر نے اپنی تاریخ ساز کامیابی کے ذریعہ ایک مثال قائم کردی ، وہیں ضلع عادل آباد کے انتخابی نتائج بھی حیرت انگیز رہے۔ جبکہ اس ضلع میں دس اسمبلی حلقہ جات میں ٹی آر ایس بشمول رکن پارلیمنٹ 7اسمبلی حلقوں میں شاندار کامیابی حاصل کی۔ تاہم اترپردیش ریاست سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعت بہوجن سماج وادی پارٹی کو نرمل کے مسٹر اے اندرا کرن ریڈی نے اس ضلع میں دو ماہ قبل تعارف کرواتے ہوئے اپنے مضبوط گروپ کو بلدی انتخابات میں شاندار کامیابی دلوانے کے بعد اسمبلی حلقہ جات میں خود بھی حلقہ اسمبلی نرمل سے رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور اپنے انتہائی قریبی سیاسی رفیق مسٹر کے کونپا حلقہ اسمبلی کاغذ نگر سے رکن اسمبلی کے لئے منتخب ہوگئے جبکہ سارے تلنگانہ میں یہ پہلا اتفاق ہے کہ بہوجن سماج پارٹی سے ضلع عادل آباد میں ارکان اسمبلی کو رائے دہندوں نے شاندار کامیابی دلائی۔ ایک اسمبلی حلقہ مدہول جہاں سے کانگریس امیدوار مسٹر وٹھل ریڈی نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے ضلع عادل آباد میں کانگریس کی نشانی کو باقی رکھا ہے جبکہ ضلع پریشد عادل آباد پارلیمنٹ عادل آباد پر بھی ٹی آر ایس نے تاریخ ساز کامیابی حاصل کرلی ہے۔ یہاں یہ بتانا بے محل نہ ہوگا کہ عوام نے اپنے خاموش طوفان کے ذریعہ بالخصوص سرکاری ملازمین نے رائے دہی کے ذریعہ سیاسی جماعتوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ جو قیادت عوام کی امیدوں پر کھرا نہیں اترسکتی اس کو تخت سے اتارنے کا فن رائے دہندوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ یہی سبب ہے کہ علحدہ ریاست کی تشکیل کے باوجود تلنگانہ کی عوام نے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور حکومت کی ناقص کارکردگی کے تناظر میں حکومت کی تبدیلی کے خواہاں تھے جو آج نتائج کی شکل میں سامنے ہیں۔قیادت کو سوچنا چاہیئے کہ جس طرح غربت فاصلے بڑھادیتی ہے اسی طرح کارکردگی بھی رائے دہندوں سے دور ہوجاتی ہے۔ اس لئے اقتدار ملنے والوں کو یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیئے بقول شاعر:
ملا ہے تاج تو اتنی زیادہ تمکنت مت رکھ
کبھی یہ تاج اترتے ہی بدن پر سر نہیں رہتا
تجھے ایک روز آنا پڑیگا تخت سے نیچے
ہمیشہ یہ سورج بھی تو بلندی پر نہیں رہتا