Thursday , December 12 2019

صنفِ نظم

ڈاکٹر سید بشیر احمد

ڈاکٹر سید بشیر احمد
اردو اصناف شاعری میں نظم ایک اہم صنف ہے ۔ اردو زبان کے ابتدائی دور میں حضرت امیر خسرو نے اس صنف میں وقیع اضافہ کیا ۔ اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر قلی قطب شاہ نے بھی اس صنف سخن کے احیاء میں اپنا حصہ ادا کیا ۔ نظیر اکبرآباد میں صنف کے اہم شاعر ہیں ۔ انہوں نے ہندوستان کے موسم ، میوے ، تہوار اور موسموں وغیرہ کا اپنی نظموں میں احاطہ کیا ہے ۔

انہوں نے دس برس کی عمر سے ہی شاعری شروع کردی تھی ۔ نظم کے معنی موتی پرونے کے ہیں ۔ جس طرح موتیوں کو پُرو کر ہار بنایا جاتا ہے اسی طرح اشعار کو جمع کرکے نظم بنائی جاتی ہے ۔ غزل مخصوص ہیئت کی وجہ سے ایک خاص صنف سخن ہے ۔ قصیدہ ، مرثیہ اور مثنوی وغیرہ بھی نظم میں شامل ہیں تاہم وہاں نظم یعنی شاعری کا تصور لیا گیا ہے ۔ نظم کی چار قسمیں ہیں (۱) پابند نظم (۲) آزاد نظم (۳) معری نظم (۴) نثری نظم ۔
۱) پابند نظم : پابند نظم درحقیقت ہیئت کی پابند ہے ۔ چار مصرعوں میں لکھی جائے تو اس کو مربع نظم کہتے ہیں اور اگر پانچ مصرعوں میں لکھی جائے تو اس کو مخمس اور اگر چھ مصرعوں میں ایک بند لکھا جائے تو اس کو مسدس کہتے ہیں ۔ ۴ ، ۵ ، ۶ مصرعوں کی پابندی کی وجہ سے اس کو پابند نظم کہتے ہیں ۔ اردو ادب میں باقاعدہ نظم نگاری کا آغاز 18 ویں صدی عیسوی میں ہوا ۔ نظیر اکبر آبادی کو پہلا نظم گو شاعر ہونے کا افتخار حاصل ہے ۔ نظیر اکبر آبادی کے رحلت کے بعد ایک عرصہ تک نظم گوئی جمود کا شکار رہی ۔

اس مدت میں غزل اور دیگر اصناف شاعری کا دور دورہ رہا ۔ نظیر اکبر آبادی کے بعد صنف نظم کو بام عروج پر پہنچانے میں خواجہ الطاف حسین حالیؔ اور محمد حسین آزاد نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ان حضرات نے موضوعاتی مشاعرے منعقد کئے ۔ محمد حسین آزاد ، حالی ، شبلی نے صنف نظم کو بڑھاوا دینے میں اپنی ساری توانائیاں صرف کیں ۔ نظم گوئی کے ارتقاء میں ابتدائی طور پر نیچرل شاعری کو فروغ حاصل ہوا ۔ انجمن پنجاب نے صنف نظم کو استحکام بخشا ۔ موضوعاتی نظمیں لکھی جانے لگیں ۔ اصلاحی اور فطری موضوعات کا احاطہ کیا جانے لگا ۔ اسمعیل میرٹھی نے بچوں کے لئے نظمیں لکھیں ۔ نظیر اکبر آبادی سے علامہ اقبال کے دور تک نظم نگاری کا طرز پابند نظم ہی تھا ۔ علامہ اقبال نے نظم کو ایک ایسا اندرونی آہنگ دیا کہ ہم آسانی سے نظم کو اس کی ہیئت کی وجہ سے شناخت کرسکتے ہیں ۔ تمثیلی الفاظ ، موضوعاتی ندرت ، وطنی اور قومی نظمیں اور اخلاقی نظمیں بچوں کے لئے بھی نظمیں لکھی گئیں ۔ اکبر الہ آبادی نے ظریفانہ نظمیں لکھ کر اس صنف کو استحکام بخشا ۔ اکبر الہ آبادی بھی پابند نظم کے شاعر کی حیثیت سے مقبولیت حاصل کی ۔ اختر الایمان کی پابند نظم ’’خاک و خون‘‘ کا ایک بند ملاحظہ فرمایئے ۔
سب فضاؤں کی امانت یہ نوزائیدہ گل
غنچہ و نالہ و نسرین چمن
صبح ہنستی ہوئی آتی ہے بہاروں کو لئے
شام روتے ہوئے جاتی ہے لئے گرد محن
کیفی اعظمی کی نظم ’’عورت‘‘ کا ایک بند ملاحظہ ہو ۔ جس میں پابند نظم کا انداز نمایاں ہے ۔

زندگی جہد میں ہے صبر کے قابو میں نہیں
نبض ہستی کا لہو کانپتے آنسو میں نہیں
اڑنے ہلنے میں ہے نکہت خم گیسو میں نہیں
جنت اک اور ہے جو مرد کے پہلو میں نہیں
ساحر لدھیانوی کی پابند نظم کا ایک بند ملاحظہ ہو
جس عہد سیاست نے یہ زندہ زباں کچلی
اس عہد سیاست کو مرحوموں کا غم کیوں ہے
غالب جسے کہتے ہیں اردو ہی کا شاعر تھا
اردو پہ ستم ڈھاکے غالب پہ کرم کیوں ہے

۲) آزاد نظم : 1930 میں آزاد نظم لکھنے کی ابتداء ہوئی ۔ سب سے پہلے فرانسیسی ادب میں اسے رواج ہوا ۔ فرانسیسی سے انگریزی اور انگریزی ادب سے اردو میں اس کا ورد ہوا ۔ اسمعیل میرٹھی نے اس دور میں پہلی آزاد نظم ’’چڑیا کا بچہ‘‘ لکھا ۔ ن م راشد آزاد نظموں کے لکھنے والوں کے قافلہ میں سب سے آگے ہیں ۔ ان کے دو شعری مجموعے ’’ماوری‘‘ اور ’’جرات پرواز‘‘ زیور طبع سے آراستہ ہو کر شائع ہوچکے ہیں ۔ پابند نظم میں شروع سے آخر تک بحر کی پابندی کی جاتی ہے ۔ اس کے برخلاف آزاد نظم میں ارکان کو توڑ کر مصرعوںکو چھوٹا یا بڑا کیا جاسکتا ہے ۔ اس طرح پابند نظم میں بحر کی پابندی کے حساب سے شاعر آزاد رہتا ہے اور آزاد نظم میں مصرعوں کو چھوٹا بڑا کیا جاسکتا ہے ۔ کسی بھی پابند نظم کو توڑ کے آزاد نظم میں تبدیل کیا جاسکتاہے اور آزاد نظم کو جوڑ کر پابند نظم کی شکل میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔ آزاد نظم میں قافیہ اور ردیف کی پابندی نہیں کی جاتی البتہ بحر کی پابندی کی جاتی ہے جس کی وجہ سے آہنگ برقرار رہتا ہے ۔ آزاد نظم کا رواج اس لئے پڑا کہ شاعر پابندیوں سے آزاد رہے ۔ ردیف اور قافیوں کی پابندی کے لئے مصرعوں کو کھینچ کر لانا پڑتا ہے ۔ اردو ادب کے مایہ ناز شاعر فیض احمد فیض ، احمد ندیم قاسمی ، مخدوم محی الدین ، اختر الایمان ، ساحر لدھیانوی اور کیفی اعظمی نے آزاد نظم لکھ کر مقبولیت حاصل کی اور اردو شاعری میں آزاد نظم کو صنف کا مرتبہ عطا کیا ۔ ۳) معری نظم : اس نظم میں قافیہ کو ملحوظ نہیں رکھا جاتا ۔ یہ صنف قافیہ سے عاری ہوتی ہے لیکن سارے مصرعے ایک ہی بحر اور ایک ہی وزن میں ہوتے ہیں ۔ اگر ایک مصرعہ میں فرض کیجئے فاعلاتن چار مرتبہ آتا ہے تو آخری نظم تک ایسا ہی ہوتا ہے ۔ بحر کے سارے ارکان کی پابندی ہوتی ہے ۔ مساوی مصرعے ہوتے ہیں کمی یا زیادتی نہیں ہوتی ۔
معری نظم کا ایک نمونہ ملاحظہ فرمایئے
یہ ترے پیار کی خوشبو سے مہکتی ہوئی رات
اپنے سینے میں چھپائے ترے دل کی دھڑکن
آج پھر تیری ادا سے مرے پاس آئی ہے
کتنے لمحے کہ غم زیست کے طوفانوں میں
زندگانی کی جلائے ہوئے باغی مشعل
تو مرا عزم جواں بن کے مرے ساتھ رہی
(جان نثار اختر : مہکتی ہوئی رات)
ذیل میں اسمعیل میرٹھی کی نظم ’’چڑیا کا بچہ‘’ کے تین شعر جو معری نظم کی ہئیت میں ہیں ۔

دو تین چھوٹے بچے چڑیا کے گھونسلے میں
چپ چاپ لگ رہے ہیں سینے سے اپنی ماں کے
چڑیا نے ممتا سے پھیلا کے دونوں بازو
اپنے پروں کے اندر بچوں کو ڈھنک لیا ہے
اس طرح روزمرہ کرتی ہے ماں حفاظت
سردی سے اور ہوا سے رکھتی ہے گرم ان کو
اب ہم اس کو آزاد نظم کی ہئیت میں پیش کرتے ہیں ملاحظہ فرمایئے۔
دو تین چھوٹے بچے
چڑیا کے
گھونسلے میں
چپ چاپ لگ رہے ہیں
سینے سے
اپنی ماں کے
چڑیا نے ممتا سے پھیلا کے دونوں بازو
اپنے پروں کے اندر
بچوں کو
ڈھنک لیا ہے
آزاد نظم میں کوئی مصرعہ چھوٹا ہے کوئی بڑا ۔ ان مصرعوں میں نہ ہی قافیہ کی پابندی ہوتی ہے نہ تمام مصرعے ایک وزن میں ہوتے ہیں ۔ صرف سارے مصرعوں میں ایک ہی بحر کے ارکان کم یا زیادہ استعمال کئے جاتے ہیں ۔ مثلاً مخدوم کی نظم ’’چاند تاروں کا بن‘‘ کے مصرعے ملاحظہ ہوں
موم کی طرح جلتے رہے ہم شہیدوں کے تن
رات بھر جھلملاتی رہی شمع صبح وطن
رات بھر چمکتا رہا چاند تاروں کا بن
تشنگی میں بھی سرشار تھے
پیاسی آنکھوں کے خالی کٹورے لئے

منتظر مرد و زن
۴) نثری نظم : یہ نظم بھی فرانسیسی ادب سے انگریزی ادب میں اور انگریزی ادب سے اردو ادب میں شامل ہوئی ہے ۔ اس نظم میں کسی قسم کی بھی پابندی نہیں کی جاتی ۔ بحر کی اور اس کے ارکان کی پابندی کی وجہ سے نظم میں جو ترنم پیدا ہوتا ہے نثری نظم اس سے یکسر محروم رہتی ہے ۔ یہ نظم نثر سے قریب تر ہوتی ہے ۔ نثری نظم میں اہم پہلو ’’خیال‘‘ ہے ۔
ذیل میں پروفیسر غیاث متین کی نثری نظم ’’تم بھی عجیب‘‘ نمونتاً درج کی جاتی ہے ۔
کبوتر بھی
آسمان میں منڈلاتے ہوئے
گہرے سرخ بادلوں کو دیکھ کر
اپنے پر باندھ لیتے ہیں
اور کابک میں بیٹھے ہوئے
غٹرغوں ، غٹرغوں …
خیر جانے دو
تم بھی عجیب پرندے ہو
کسی بھی موسم میں
پانی پر
اپنے پر مارنے سے باز نہیں آتے

TOPPOPULARRECENT