نندیال /16 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) مسلمانوں کے حق رائے دہی کے خلاف شیوا سینا کے لیڈر راؤت کے ریمارکس پر تنقید کریت ہوئے ریاست آندھراپردیش کے آواز کمیٹی جنرل سکریٹری محمد مرتضی نے کہا کہ اس طرح کے بیانات سے ہندو مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہونے کی گنجائش ہے ۔ ان بیانات کے ہیں پردہ گھناؤنے عزائم کارفرما ہیں ۔ چونکہ شیوا سینا بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت کی حلیف جماعت وزیر اعظم مودی کو موقف واضح کرنا ہوگا ۔ دستور ہند نے ہر ایک شہری کو ووٹ دینے کا حق دیا ہے اور حق کی تنقیح کے بارے میں بات کرنا شدید ناانصافی ہوگی اور یہ ہندو ، مسلمانوں کے درمیاں تفریق کرائے گا ۔یہ انتہائی بدبختانہ ہے کہ وزیر اعظم کی ایک حلیف جماعت اس طرح کے بیانات دے رہی ہے ۔ اس موقع پر مرتضی نے یہ بھی کہا کہ مسلمانوں سے ووٹ کا حق چھینا اتنا آسان نہیں ۔ راوت کے ریمارکس غیر دستوری ہیں اور زعفرانی لیڈر کے خلاف سخت کارروائی کرنا بے حد ضروری ہے ۔ اس طرح فرقہ وارانہ بیانات صرف دستور ہند کے خلاف ہے ۔ اس موقع پر آلیر فرضی انکاونٹر سنٹر کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ 5 مسلم مسلم نوجوانوں کو پولیس نے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت قتل کردیا ہے کیونکہ وہ عدالت سے باعزت بری ہونے والے تھے ۔ اس وجہ سے پولیس نے انکا قتل کردیا اور ان پر ایک جھوٹی کہانی پیش کر رہے ہیں کہ وہ فرار ہونے والے تھے اور پولیس کے بندوقیں ان سے چھین کر ان پر حملہ کرنے والیتھے ۔ اس لئے اس انکاونٹر کی تحقیاقت ایس آئی ٹی نے نہیں بلکہ سی بی آئی سے کروائی جائے ۔ قانون کو اپنے ہاتھوں لیکر 5 نوجوانوں کو قتل کرنے والے سزا دیں ورنہ آواز کے جانب سے تلنگانہ اور آندھراپردیش میں احتجاج کیا جائے گا ۔