نظام آباد:14؍ فرور ی (محمد جاوید علی)ریاستی وقف بورڈ نے متو لی درگاہ حضرت کمال شاہ بیا بانیؒ واقع کنٹیشور شیر علی شاہ کو متولی کی حیثیت سے برخواست کرتے ہوئے احکامات جاری کئے۔ درگاہ، عاشور خانہ سرائے ، مسجد، قبرستان و دیگر جائیدادوں کو وقف بورڈ کی تحویل میں لیتے ہوئے اس کی دیکھ بھال انسپکٹر و اڈیٹر وقف نظام آباد کو ہدایت دی۔جس پر آج صدر ضلع وقف کمیٹی جاوید اکرم کی نگرانی میں تحویل میں لے لیا گیا۔ صدر ضلع وقف کمیٹی جاوید اکرم نے کل بعد نماز جمعہ درگاہ حضرت کمال شاہ بیا بانیؒ کنٹیشور کے احاطہ میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ درگاہ حضرت کمال شاہ بیا بانیؒ کے تحت جملہ 7ایکر 27 گنٹہ اراضی ہے جس کا سروے نمبر 294,307اور 136( قدیم) ہے۔ شیر علی شاہ متولی کی حیثیت سے اس کی دیکھ بھال کررہے تھے انہوں نے اپنے اختیارات کا غیر مجاز طور پر استعمال کرتے ہوئے بھاگیہ لکشمی فیلنگ اسٹیشن کے مالک سنتوش 30سال لیز دینے کے علاوہ پرکاش آٹو سرویس کو لیز پر دیا تھا جس پر وقف بورڈ سے شکایت کرنے پر وقف بورڈ نے اس کی تحقیقات کرتے ہوئے شیر علی شاہ کو نوٹس جاری کیا تھااور بعد انکوائری 5؍ستمبر 2013 ء میں معطل کیا گیا تھا اور 25؍اکتوبر 2013ء میں ضلع وقف کمیٹی کے تحویل میں لینے کی ہدایت دی گئی تھی جس پر انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع ہونے پر یہاں پر بھی یہ معطل کیا گیا اس کے بعد وقف بورڈ نے 4؍ فروری 2015ء میں ان کی متولی کی حیثیت سے برخواست کرتے ہوئے کمال شاہ بیابانیؒ کے تحت واقع اراضیات اور جائیدادوں کو وقف بورڈ کی نگرانی میں لے لیا ہے۔ لہذا درگاہ کمال شاہ بیا بانیؒ کے کرایہ دار اپنے کرایوں کو ضلع وقف کمیٹی کے انسپکٹر اڈیٹر کے پاس جمع کرائیں۔ مسٹر جاوید اکرم نے وقف بورڈ کے اقدام کی ستائش کرتے ہوئے جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کرنے اور نظام آباد کی تمام جائیدادوں کی حفاظت کیلئے کوشش کی جائے گی اس موقع پر انسپکٹر اڈیٹر عبدالقدیر، بل کلکٹر یوسف بیگ، کنٹیشور کے خواجہ معین، خواجہ سلیم و دیگر بھی موجود تھے۔