شہید فلسطینی وزیر کے پوسٹ مارٹم سے متعلق متضاد دعوے

یروشلم ، 11 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیلی اور فلسطینی حکام نے گزشتہ روز احتجاجی مظاہرے کے دوران اسرائیلی پولیس سے جھڑپ کے دوران جاں بحق فلسطینی وزیر زیاد ابو عین کی نعش کے پوسٹ مارٹم سے متعلق متضاد دعوے کئے ہیں۔ایک سینئر فلسطینی عہدہ دار حسین الشیخ نے نیوز ایجنسی ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ 55 سالہ زیاد کا پوسٹ مارٹم کرنے والے فلسطینی اور اردنی ڈاکٹروں نے بتایا کہ وزیر کی موت کاری ضرب، اشک آور گیس اور مناسب طبی امداد نہ ملنے سے ہوئی۔ تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ تک رسائی والے اسرائیلی طبی ذرائع نے بتایا کہ فلسطینی وزیر کی موت گردن دبوچنے کی وجہ سے پیدا ہونے والے دباؤ اور اسکے بعد دل کے دورے کی وجہ سے ہوئی۔ دریں اثنا اسرائیلی فوج نے مبینہ طور پر مغربی کنارہ میں مزید کمک تعینات کر دی کیونکہ سینئر فلسطینی وزیر کے قتل کے بعد علاقے میں غمزدہ شہری مزید احتجاجی مظاہروں کی تیاری کر رہے ہیں۔
مغربی کنارہ میں فلسطینیوں، اسرائیلیوں کی جھڑپ
اس دوران اسرائیلی پیراملٹری بارڈر پولیس کی آج مغربی کنارہ کے شہر حبرون میں 60 تا 100 سنگباری کرنے والے فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپ ہوگئی، اسرائیلی ملٹری نے یہ بات کہی۔ یہ ٹکراؤ ایک روز بعد ہوا جبکہ ایک فلسطینی کابینی رکن مغربی کنارہ کے دیگر مقام پر احتجاج کے دوران اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ الجھاؤ کے بعد فوت ہوگئے تھے۔ حبرون کی جھڑپوں میں کسی کے زخمی ہونے یا گرفتاریوں کے تعلق سے فوری کوئی اطلاعات سامنے نہیں آئی ہیں۔