شہیدان تلنگانہ کے ورثاء کا کوئی پرسان حاصل نہیں

قاضی پیٹ /19 فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) شہیدان تلنگانہ قربانیوں کو ضائع ہونے نہیں دیں گے ۔ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل میں اپنی جان کی قربانیاں دینے والے شہیدان تلنگانہ کے طلباء کے ورثاء کا کوئی پرسان حال نہیں ہے ۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے 9 ماہ مکمل ہونے کے باوجود اب تک شہیدان تلنگانہ کے ورثاء کو کوئی مالی امداد یا سرکاری ملازمت فراہم نہیں کی گئی ۔ جس کے سبب طلباء میں کافی تشویش پائی جارہی ہے ۔ تلنگانہ کیلئے جان کی قربانیاں دینے والوں کے ورثاء حکومت کی نظر سے اوجھل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قومی صدر AISF و انچارج اسٹوڈنٹ JAC کاکتیہ یونیورسٹی ورنگل نے کیا ۔ انہوں نے کے سی آر حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ کیلئے قربانیاں دینے والے اور تلنگانہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے طلباء کو ٹی آر ایس حکومت نے مکمل طور پر نظر انداز کردیا ہے اور خود وزیر اعلی کے چندر شیکھر راؤ اپنے افراد خاندان کو کافی ترجیح دیتے ہوئے ان کی دختر ارکان پارلیمنٹ نظام آباد کویتا کو مرکزی وزیر بنانے کیلئے کافی سرگرم ہیں اور دہلی میں بی جے پی سے اتحاد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ جس کی میں سخت مذمت کرتا ہوں ۔ آج سنہرے تلنگانہ کے نام پر چیف منسٹر عوام کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ اسی طرح طلباء کو کے جی تا پی جی تک مفت تعلیم کا بھی اعلان کیا ہے۔ تاہم اس پر عمل آوری میں کوئی ٹھوس اقدام نہیں کئے جارہے ہیں ۔ جبکہ علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل شہیدان تلنگانہ کی بدولت ہے اور کے چندر شیکھر راؤ کو چیف منسٹر کی کرسی پر بٹھانے میں JAC طلباء بالخصوص اسٹوڈ۔ٹس آرگنائزیشن کا سب سے بڑا رول ہے ۔ چنانچہ طلباء کے مسائل کی فوری یکسوئی کی جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ضلع ورنگل سے تعلق رکھنے والے 200 سے زائد طلباء علحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کیلئے اپنی جان کی قربانیاں دی ہیں ۔ ان کے ورثاء کیلئے فی کس 10 لاکھ روپیہ ایکس گریشیا منظور کئے جائیں بصورت دیگر AISF طلباء طالبات کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی دھرنے اور ریالیاں منظم کرنے کا اعلان کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی ساتھ ضلع ورنگل کے کئی مختلف دفتر بالخصوص تعلیمی اداروں میں اردو زبان کو مکمل طور پر نظر انداز کردیا گیا ۔ ورنگل کا قدیم تعلیمی ادارہ کاکتیہ یونیورسٹی پر اردو سائن بورڈ کو نصب نہ کرنے پر اردو کے ساتھ سوتیلا سلوک کرنے کا بھی الزام عائد کیا جبکہ کے چندر شیکھر راؤ نے اردو زبان کو دوسرے سرکاری زبان کا درجہ دینے کا اعلان کیا ۔ اس کے باوجود اردو زبان کو کافی نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ سارے تعلیمی ادارے اور سرکاری دفتروں میں اردو سائن بورڈ نصب کیا جائے ۔ بصورت دیگر سبھی سرکاری دفتروں پر احتجاج کا انتباہ دیا ۔