شہر میں دو خطرناک عادی رہزن گرفتار

6کیلو مسروقہ طلائی زیورات برآمد، کمشنر پولیس کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔17 ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد اور سائبرآباد میں سلسلہ وار رہزنی کی وارداتوں میں ملوث دو خطرناک عادی رہزنوں کو گرفتار کرنے میں کمشنر ٹاسک فورس ایسٹ زون نے کامیابی حاصل کرلی اور ان کے قبضہ سے 6 کیلو مسروقہ طلائی زیورات برآمد کرلیا۔ کمشنر پولیس حیدرآباد مسٹر ایم مہیندر ریڈی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ 27 سالہ سعید حسین عرف لمبا حسین ساکن نواب صاحب کنٹہ کالا پتھر اور اس کا ساتھی 22 سالہ مرزا عظمت علی بیگ عرف علی حیدرآباد و سائبرآباد کے مختلف علاقوں میں خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے ان کے گلے سے طلائی چین اُڑا لیا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ لمبا حسین کے خلاف 106 غیرضمانتی وارنٹ زیرالتواء ہیں اور وہ سال 2012ء میں جیل سے رہا ہونے کے بعد 228 رہزنی کی وارداتوں میں ملوث ہے۔ کمشنر پولیس نے مزید بتایا کہ 14 نومبر کی شام لمبا حسین ایل بی نگر پولیس اسٹیشن حدود میں رہزنی کی واردات انجام دینے کے بعد آر کے پورم کتہ پیٹ سے گزر رہا تھا کہ چیتنیہ پوری پولیس اسٹیشن سے وابستہ دو کانسٹبلس نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے جوابی کارروائی میں چاقو سے حملہ کرکے ایک کانسٹبل کو زخمی کردیا تھا اور بعدازاں اس کی موٹر سائیکل بھی لے کر فرار ہوگیا۔ کانسٹبل کی موٹر سائیکل کو لمبا حسین نے شمس آباد کے مضافاتی علاقہ میں نذرآتش کردیا۔ مسٹر مہیندر ریڈی نے بتایا کہ خطرناک رہزن شہر میں واردات انجام دینے کے بعد دوسرے مقام منتقل ہوجاتا تھا اور اس نے اب تک دہلی، گوا، بنگلور، اجمیر، آگرہ، ممبئی، گلبرگہ اور ملک کے دیگر مقامات کو جاکر پرتعش زندگی گزارتا تھا۔ لمبا حسین کو سال 2010ء میں ایس آر نگر پولیس نے گرفتار کیا تھا اور وہ 109 رہزنی کی وارداتوں میں ملوث تھا۔ سال 2012ء میں مہانکالی پولیس نے بھی اسے گرفتار کیا تھا، لیکن جیل سے رہا ہونے کے بعد وہ دوبارہ سرگرم ہوگیا اور اپنی غیرقانونی سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے اپنے ساتھی عظمت علی اور محمد عقیل الدین کے ہمراہ 228 رہزنی کے واقعات میں ملوث ہوگیا۔ مرزا عظمت علی بیگ جو لمبا حسین کا قریبی ساتھی ہے ، کو بھی ایس آر نگر پولیس نے گرفتار کیا اور جون 2014ء میں جیل سے رہا ہونے کے بعد وہ اپنے ساتھی حسین کے ہمراہ دوبارہ رہزنی کے واقعات میں ملوث ہوگیا۔ مہیندر ریڈی نے بتایا کہ مذکورہ گرفتار شدہ ملزمین حیدرآباد میں 170 اور سائبرآباد میں 58 رہزنی کی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ پولیس نے مسروقہ مال خریدنے والے تین افراد 27 سالہ محمد عبدالخلیل ساکن جہاں نما نواب صاحب کنٹہ، 24 سالہ شیخ احمد الدین ساکن امان نگر اے تالاب کٹہ جو پیشہ سے بلالہ جیویلرس میں سیلزمین ہے اور 21 سالہ سید ارشد ساکن جہانگیرآباد چندرائن گٹہ کو گرفتار کرلیا ہے۔ مسروقہ مال خریدنے والے مزید دو افراد 34 سالہ محمد عرفان اور 32 سالہ مجید خان کی پولیس کو تلاش ہے جبکہ عادی رہزنوں کا ایک اہم ساتھی 21 سالہ محمد عبدالخلیل ساکن جہاں نما ماڈل ٹاؤن کالونی کی بھی تلاش جاری ہے۔ کمشنر پولیس نے خطرناک عادی رہزنوں کی گرفتاری میں اہم رول ادا کرنے والے ٹاسک فورس ایسٹ زون کے ہیڈکانسٹبل پی وینکٹا سوامی کی ستائش کی اور اسے پریس کانفرنس میں نقد انعام بھی دیا۔ مسٹر مہیندر ریڈی نے بتایا کہ مسلسل رہزنی کی وارداتوں میں ملوث ہونے والے عادی رہزنوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور انہیں پی ڈی ایکٹ کے تحت جیل بھیجنے کا منصوبہ ہے تاکہ وہ کم از کم ایک سال جیل میں محروس رہیں۔