ممبئی 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) پونے میں ایک مسلمان آئی ٹی پروفیشنل محسن شیخ کے قتل کے واقعہ کے بعد این سی پی سربراہ شردپوار نے الزام عائد کیا تھا کہ یہ واقعہ دراصل بی جے پی کے برسراقتدار آنے کا نتیجہ ہے جس پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے صدر شیوسینا ادھو ٹھاکرے نے اُلٹا شردپوار کو ہی ہدف تنقید بنایا اور کہاکہ شردپوار تو مطلوبہ دہشت گرد حافظ سعید کی طرح باتیں کررہے ہیں اور یہ بھی کہاکہ جب سے کانگریس کو انتخابات میں شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا اُس کے بعد سے شردپوار کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہوگئی ہے۔ ادھو نے کہاکہ شردپوار حافظ سعید کی زبان بول رہے ہیں۔ سوشیل میڈیا پر قابل اعتراض مواد پوسٹ کئے جانے کے بعد پھوٹ پڑنے والے تشدد پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے شردپوار نے کہاکہ مرکز میں نریندر مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد فرقہ پرستوں کے حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ شیوسینا کے ترجمان اخبار سامنا میں اداریہ تحریر کرتے ہوئے ادھو نے کہاکہ پوار کے بارے میں یہ کہا نہیں جاسکتا کہ وہ کب اور کیا بولیں گے۔ لوک سبھا انتخابات میں ہزیمت اُٹھانے کے بعد وہ اب تک صدمہ سے دوچار ہیں۔
ادھونے تعجب خیز لہجہ میں یہ سوال کیاکہ پونے میں صرف ایک قتل ہوا ہے۔ نریندر مودی حکومت کا اُس قتل سے کیا لینا دینا ہے، یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ پوار صاحب سوچنا چاہئے کہ جس وقت اجمل قصاب اور اُس کے ساتھیوں نے ممبئی پر حملہ کیا تھا، اُس وقت مرکز میں مودی کی حکومت نہیں تھی۔ ادھو نے ادعا کیاکہ این سی پی وزیر جیتندر اوہد جو شردپوار کے قریب تصور کئے جاتے ہیں، وہ تھانے ڈسٹرکٹ کے ممبرا۔ کلوا میں موجود شرپسند عناصر کے خلاف پولیس کو کارروائی کرنے کی اجازت نہیں دیتے ہیں کیونکہ شرپسندوں کا تعلق ایک مخصوص مذہبی فرقہ سے ہے۔ حافظ سعید نے کراچی ایرپورٹ حملوں کے لئے مودی حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جس کا جواب دیتے ہوئے ادھو نے کہاکہ حافظ سعید کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ حملہ کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان قبول کرچکی ہے۔ شردپوار نے اتوار کے روز ڈھکے چھپے انداز میں کہا تھا کہ بی جے پی کے مرکز میں برسر اقتدار آنے کے بعد ملک میں ’’فرقہ واریت کا بخار‘‘ پھیل رہا ہے۔