مقدس رشتہ کو پامال کرنے والوں کو جیل
حیدرآباد /9 ڈسمبر ( سیاست نیوز ) دین سے دوری رشتوں کی اہمیت کو ختم کرنے کے علاوہ سماج میں رسوائی کا سبب بنتی ہے ۔ جس کی ایک مثال آصف نگر کے علاقہ جھرہ میں پیش آئی ۔ گذشتہ روز شاہ نور بیگم نے اپنی دو بیٹوں 2 سالہ افشاں اور چار ماہ کی زوبیہ کے ساتھ اجتماعی خودکشی کرلی تھی ۔ اس انتہائی افسوسناک واقعہ سے آصف نگر اور آس پاس کے علاقوں میں سنسنی پھیل گئی تھی اور خود پولیس عہدیداروں کو بھی حیرت میں ڈال دیا تھا ۔ مقام حادثہ پر ماں اور دو کمسن لڑکیوں کی نعشوں کے دلخراش مناظر پولیس پر اس طرح نقش کر گئے کہ انہو ںنے بہت جلد اس کیس کی حقیقت کو منظر عام پر لالیا اور سیاسی دباؤ کے باوجود تمام خاطیوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں جیل منتقل کردیا ۔ اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس آصف نگر محمد غوث معین الدین نے واقعہ کی جامع تحقیقات کے بعد متوفی شاہ نور بیگم کے شوہر نواز ساس اور خسر رضیہ بیگم اور محمد ابراہیم کے علاوہ چاچی ساس رئیسہ کو گرفتار کرلیا ۔ شاہ نور بیگم اور نواز کے والدین رشتہ دار اور ان کی شادی رشتہ داری میں ہوئی تھی ۔ تاہم اس کیس میں شاہ نور بیگم کی اور اس کی کمسن لڑکیوں کی اجتماعی خودکشی کی وجوہات میں اہم وجہ رئیسہ بیگم ہے جو نواز کی چاچی ہوتی ہیں ۔ جبکہ اے سی پی کے مطابق مزید اور دو وجوہات ایک تو زائد جہیز کا مطالبہ اور لڑکیوں کی پیدائش بھی تھا ۔ ان تمام مسائل سے شاہ نور بیگم پریشان تھی ۔ جہیز کیلئے ہراسانی اور لڑکیوں کی تولید پر طعنہ زنی تو اس خاتون کیلئے برداشت تھا لیکن شوہر کے ناجائز تعلقات وہ بھی اپنی چاچی سے خاتون کیلئے برداشت کے باہر عمل ہوگیا تھا ۔ شاہ نور لاڑلی ہونے کے سبب تھوڑا ضدی بھی تھی ۔ پولیس نے یہ بات بتائی ۔ خودکشی کے ایک دن قبل بھی شاہ نور اور نواز میں جھگڑا ہوا تھا ۔ نواز کا اپنی چاچی کے ساتھ فون پر بات کرنا اس کی بیوی کو پسند نہ تھا ۔ پولیس آصف نگر کے مطابق نواز اور اس کی چاچی میں نواز کی شادی سے قبل بھی تعلقات پائے جاتے تھے اور نواز کی شادی اس منشا سے کردی گئی کہ وہ ایسی حرکتوں سے باز آجائے گا ۔ نواز کی شادی کے بعد ان کا خاندان الگ ہوگیا اور نواز کے چاچا نے پڑوس ہی میں مکان کرایہ پر لیا تھا ۔ باوجود اس کے شادی کے چار سال گذرنے کے بعد بھی دونوں کے ناجائز تعلقات سے ایک گھر اور خاندان تباہ ہوگیا ۔ خودکشی سے ایک دن قبل شاہ نور بیگم نے اپنی شوہر کی حرکت پر اعتراض کیا ۔ دونوں میں بحث و تکرار کے بعد نواز نے اپنی بیوی کو پیٹا جس کے بعد اس نے اپنے مائیکے فون کیا اور ایک چٹھی پر اس نے ایک تحریری نوٹ لکھا تھا جو مرنے کے بعد پوسٹ مارٹم کے وقت اس کے دامن سے دستیاب ہوا ۔ جس میں اس نے اپنی موت کیلئے نواز اور اس کی چاچی کو ذمہ دار ٹھہرایا ۔ آصف نگر پولیس نے سخت کارروائی کرتے ہوئے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے ملزمین کو جیل منتقل کردیا ہے اور سخت سزا کیلئے اے سی پی آصف نگر سخت اقدامات کر رہے ہیں ۔