شام کے شہر پالمیرا میں خونریز جھڑپوں کے بعد آئی ایس کی پیشقدمی

بیروت۔/16مئی،( سیاست ڈاٹ کام ) اسلامک اسٹیٹ ( آئی ایس ) کے جہادیوں نے پالمیرا کے مضافات میں درجنوں عام شہریوں کو موت کے گھاٹ اُتاردینے کے بعد عرب مملکت شام کے اس قدیم تاریخی شہر میں پیشقدمی کی ۔ اس دوران عراق نے اپنے شہر رمادہ کو انتہا پسندوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کیلئے مزید فوجی کمک روانہ کردیا ہے۔ پالمیرا کے قریب رات بھر گھمسان جھڑپیں جاری رہیں جس کے بعد آئی ایس کے جنگجوؤںنے کشادہ سڑکوں اور تاریخی مقبروں کیلئے مشہوراس شہر کے مشرقی حصہ پر اپنا موقف مستحکم کرلیا ہے۔ صوبہ حمص میں واقع شہر پالمیرا دراصل شام کے وسیع و عریض صحرا ئی علاقہ کا باب الداخلہ سمجھا جاتا ہے جو پڑوسی عراق میں آئی ایس کے زیر کنٹرول علاقے تک محیط ہے۔

آئی ایس کی اس پیشقدمی کے بعد یہ قدیم تاریخی شہر اب انتہا پسند گروپ کے لئے حکمت عملی کا ایک کلیدی نشانہ بن گیا ہے۔ شام اور عراق میں آئی ایس کے زیر کنٹرول علاقوں پر امریکہ کی زیر قیادت اتحاد کے فضائی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے لندن میں واقع انسانی حقوق سے متعلق شام کے مبصر ادارہ کے ڈائرکٹر عبدالرحمن نے کہا کہ آئی ایس یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ ہنوز دونوں ممالک پر اپنے کنٹرول میں توسیع کررہی ہے۔ صوبہ حمص پر صدر بشارالاسد کی حکومت کا کنٹرول ہے لیکن آئی ایس نے حالیہ چند مہینوں کے دوران وہاں اپنے حملوں میں شدت پیدا کی ہے۔

پالمیرا پر قبضہ کی صورت میں آئی ایس کا کنٹرول مشرقی شام کے اس ملک کے شمال تک پہونچ جائے گا۔ یہ تاریخی شہر آئی ایس کیلئے پروپگنڈہ مشین بھی ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ یہ گروپ عراق اور شام میں اپنی جنونی کارروائیوں کے دوران ماقبل اسلام کی کئی یادگاروں کو تباہ کرچکا ہے اور پالمیرا کا بھی ایسے ہی حشر کے اندیشوں سے خوفزدہ اقوام متحدہ کے تعلیمی، سماجی اور ثقافتی ادارہ ( یونیسکو) نے شام کا صحرائی موتی کہلائے جانے والے اس شہر کو بچانے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ جس کا مقصد مشرق وسطیٰ کے تاریخی خزانوں کا تحفظ کیا جائے۔ پالمیرا میں پیشقدمی کے موقع پر آئی ایس نے گزشتہ دو دنوں کے دوران 49افراد کے سر قلم کردیا جن میں 9بچے اور چند خواتین بھی شامل تھے۔ عبدالرحمن نے کہا کہ آئی ایس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں میں اکثر ایسے مرد و خواتین اور بچے تھے جو شام کے دیگر علاقوں میں اپنے گھر چھوڑ کر پناہ گزینوں کی حیثیت سے سکونت پذیر تھے۔