سینئر ارکان پارلیمنٹ کو نئے ارکان کیلئے بری مثال قائم نہ کرنے اسپیکرلوک سبھا سمترا مہاجن کا مشورہ

نئی دہلی 10 جون ( سیاست ڈاٹ کام)سینئر ارکان کی جانب سے پارلیمنٹ کی کارروائی میں بار بار خلل اندازی پر برہم اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے آج انہیں مشورہ دیا کہ اس سے باز آجائیں کیونکہ وہ اس طرح نو منتخب ارکان پارلیمنٹ کے سامنے ایک بری مثال پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ نہیں ہے ۔ کئی نئے ارکان ایوان میںموجود ہیں۔ بعض چند سال کے وقفہ سے لوک سبھا میںواپس آئیں ہیں جب آپ کو موقع دیاجائے اسی وقت تقریر کریں ۔ کارروائی میں خلل اندازی درست نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نئے ارکان کے سامنے کارروائی میں خلل اندازی کوئی اچھی مثال نہیں ہے ۔ ان کا یہ تبصرہ صدر جمہوریہ کے خطاب پر تحریک تشکر کے دوران منظر عام پر آیا ۔ تحریک تشکر بی جے پی رکن راجیو پرتاب روڈی نے پیش کی تھی ۔ انہوںنے بی جے پی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کا خاکہ پیش کیا اور سابق یو پی اے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کی جس پر اپوزیشن ارکان کا سخت رد عمل سامنے آیا ۔ ترنمول کانگریس ارکان سلطان احمد، کلیان بنرجی، کانگریس ارکان دیپیندر سنگھ بھوڈا اور ادھیر رنجن چودھری نے ان تبصروں پر سخت اعتراض کیا اور روڈی سے خواہش کی کہ صدر جمہوریہ کے خطاب پر اپنے تبصرے محفوظ رکھے۔ جب روڈی نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ ملک کی جمہوریت ایک ایسے انداز میں ’’فروغ پارہی ہے ‘‘ کے اگر کوئی جیل جاتا ہے تو اس کی بیوی اس کی جگہ چیف منسٹر بن جاتی ہے ۔ آر جے ڈی ارکان راجیو رنجن عرف پپو یادو نے اس تبصرے پر سخت اعتراض کیا اور ایوان کے وسط میں احتجاج کرتے ہوئے پہنچ گئے ۔ یہ تبصرہ واضح طور پر صدر آر جے ڈی کی بیوی رابڑی دیوی کے بارے میں تھا تاہم روڈی نے کہا کہ اگر ان کے تبصرے سے کسی کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو وہ اپنے الفاظ واپس لیتے ہیں۔