سڑک حادثہ میں انجینئرنگ کالج بودھن کا طالب علم ہلاک

بودھن۔/20اگسٹ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) آج صبح آر کے کالج آف انجینئرنگ و ٹکنالوجی بودھن کے سامنے ہوئے ایک سڑک حادثہ میں کالج ہذا کے سال سوم سیول انجینئرنگ کورس میں زیر تعلیم طالب علم محمد شجاعت علی عمر 20سال کی برسر موقع موت واقع ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق دس ٹائر والی تیز رفتار لاری جو ماربل پتھر کا لوڈ لادے راجستھان سے برائے بودھن حیدرآباد جارہی تھی جو موٹر سیکل پر سوار کالج کی جانب سے اپنی سائیڈ سے جانے والے طالب علم کی موٹر سیکل کو پیچھے سے ٹکر دے دی۔ عینی شاہدین کے بموجب شجاعت علی ٹکر کے باعث اپنا توازن کھوکر نیچے گرپڑے اور لاری کے پچھلے ٹائر کے نیچے آکر دب جانے کی وجہ سے ان کی برسر موقع موت واقع ہوگئی۔ کالج ہذا کے پرنسپال ڈاکٹر محمد حفیظ الدین کو اس حادثہ کی اطلاع ملتے ہی انہوں نے مقام حادثہ پہنچ کر کالج کی بس کے ذریعہ نعش کو گورنمنٹ ہاسپٹل منتقل کیا۔ مہاراشٹرا۔ تلنگانہ راستوں کو ملانے والی بین ریاستی سڑک پر واقع اس کالج کے سامنے کالج انتظامیہ نے محکمہ پی ڈبلیو ڈی اور ٹریفک پولیس کو متعدد بار یہاں اسپیڈ بریکر ڈالنے کیلئے نمائندگی کی چونکہ یہاں اس سڑک پر آئے دن حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

آج ہوئے اس بھیانک سڑک حادثہ کے بعد آر کے کالج کے طلبہ بھڑک اٹھے اور انہوں نے کالج کے سامنے راستہ روکو احتجاج منظم کرتے ہوئے پختہ سڑک کو کھود ڈالا۔ سرکل انسپکٹر پولیس بودھن مسٹر رام کرشنا نے برہم طلبہ کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن طلبہ اس قدر برہم تھے کہ انہوں نے پی ڈبلیو پی اور آر ٹی او عہدیداروں کے علامتی پتلے نذر آتش کئے اور ان کے خلاف نعرے بلند کئے۔ طلبہ نے مقامی قائدین کو یہاں آکر اسپیڈ بریکرس نصب کرنے کا تیقن دینے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اس بین ریاستی سڑک پر کچھ ہی دیر میں دونوں جانب سینکڑوں سواریاں رک گئیں اور ٹریفک جام ہونے کی وجہ سے ہائی وے پٹرولنگ پولیس عملے کو طلب کرلیا گیا لیکن وہ بھی احتجاجی طلباء کو منتشر کرنے میں ناکام ہوگئے۔ بعد ازاں سرکل انسپکٹر پولیس نے پرنسپال کالج ہذا ڈاکٹر حفیظ الدین کی موجودگی میں کالج کے سامنے اسپیڈ بریکرس نصب کرنے کا تیقن دینے کے بعد طلبہ نے اپنا احتجاج ختم کیا ۔ بعد ازاں طلبہ کی کثیر تعداد نے ایم ایل اے بودھن شکیل احمد کی قیامگاہ پہنچ کر متوفی طالب علم کے ورثاء کو ایکس گریشیا کی رقم فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ایم ایل اے بودھن کی عدم موجودگی پر ریاستی نائب صدر اقلیتی سل عبدالرزاق نے کالج کے طلبہ کے مطالبہ سے رکن اسمبلی کو واقف کروانے کا تیقن دینے کے بعد طلبہ ایم ایل اے کی رہائش گاہ سے رخصت ہوئے۔