کاماریڈی:10؍ مارچ(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) گذشتہ 60 سال کی جدوجہد کے نتیجہ میں ہی تلنگانہ کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور سونیا گاندھی اپنے وعدہ پر پابند عہد رہتے ہوئے اسے شرمندہ تعبیر کیالیکن بی جے پی راجیہ سبھا میں بل میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ان خیالات کا اظہار مرکزی وزیر مسٹر جئے رام رمیش کاماریڈی کے ماچہ ریڈی میں ایک عظیم الشان جلسہ عام سے مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ مسٹر جئے رام رمیش ضلع کی سرحد ماچہ ریڈی پہنچے پر ایم ایل سی محمد علی شبیر، صدر ضلع کانگریس نظام آباد طاہر بن حمدان، رکن پارلیمنٹ ظہیر آباد سریش شٹکرودیگر نے ان کا زبردست خیر مقدم کیا۔ اس موقع پر منعقدہ جلسہ سے مخاطب کرتے ہوئے مسٹر جئے رام رمیش نے کہا کہ تلنگانہ کے قیام کے بعد کئی قائدین اپنے آپ کو گاندھی، نہروسمجھ رہے ہیں لیکن عوام اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ تلنگانہ اور سیما آندھرا کی ایک ہی اماں ہے اور وہ سونیا اماں ہے تلنگانہ اور سیما آندھرا ایک ہی ماں کے دو جوڑواں بیٹے ہیں تلنگانہ کے قیام کا سال 2000 ء میں ہی عزم کیا تھا اور 2001 ء 27؍ اپریل کو ٹی آرایس کا وجود عمل میں آیا۔ اور 2013 ء میں ہی تلنگانہ کے قیام کا فیصلہ کیاگیا۔ تلنگانہ ریاست میں پسماندہ طبقات ایس سی، ایس ٹی اور اقلیت کو بھر پور نمائندگی حاصل ہوگی اور 2014 ء جون میں تلنگانہ نئی ریاست کا وجود عمل میں آئیگااور کانگریس کی حکومت ہوگی اور کانگریس کا چیف منسٹر ہوگا۔
تلنگانہ کے قیام کے بعد بی جے پی کے اپوزیشن لیڈر اپنے آپ کو تلنگانہ کی چننا اماں قرار دے رہی ہے جبکہ راجہ سبھا میں ان کے قائد وینکیا نائیڈو نے بل میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی۔ لوک سبھا میں سشما سوراج تائید کرتی ہے تو راجہ سبھا میں وینکیا نائیڈو مخالفت کرتے ہیں ان دونوں کے درمیان اتحاد نہیں کہے کر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ سیما آندھرا اور تلنگانہ کی ترقی کیلئے کانگریس کوشاں ہے اور سیما آندھرا تلنگانہ کی عوام دونوں بھائیوں کی طرح مل جھل کر آگے بڑھنے کی خواہش کی۔ انہوں نے تلنگانہ کے علاقہ میں کانگریس کمزور نہیں ہے 119 نشستوں میں کانگریس پارٹی مستحکم ہے اور آئندہ انتخابات میں کانگریس کو اکثریت حاصل ہوگی اور کانگریس کی حکومت قائم ہوگی۔انہوں نے شبیر علی، اراکین پارلیمنٹ کی کارکردگی کی ستائش کی اور لوک سبھا کیاراکین پارلیمنٹ تین سال تک جدوجہد کرتے رہے اور کانگریس ہائی کمان کو تلنگانہ کے قیام پر مجبور ہونا پڑا۔
اس موقع پر سابق ریاستی وزیر محمد علی شبیر نے اپنی صدارتی تقریب میں کہا کہ تلنگانہ کے قیام کیلئے ماچہ ریڈی منڈل میں کئی نوجوانوں نے خودکشی کرتے ہوئے تحریک کو آگے بڑھایا تھا اور شریمتی سونیا گاندھی نے تلنگانہ کے دیرینہ خواب کو تکمیل کیا۔ کاماریڈی حلقہ میں تلنگانہ کیلئے قربانی دینے والے تمام شہیدان تلنگانہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی قربانی رائیگا نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سونیا گاندھی نے تلنگانہ کے عوام کے جذبات کا احترام کیا ہے لہذا انتخابات میں کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنانے کی خواہش کی اور کاماریڈی کے حلقہ کی ترقی کیلئے پرانہیتا چیوڑلہ کے علاوہ دیگر ترقیاتی کاموں کو انجام دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ اس موقع پر کے راجو ایس سی ایس ٹی سیل نے اپنی تقریر میں کہا کہ سونیا گاندھی نے تلنگانہ میں ہونے والی قربانیوں اور جذبات و دیرینہ مطالبہ کے تحت تلنگانہ کا قیام عمل میں لایا ۔ تلنگانہ کی عوام آئندہ انتخابات میں کانگریس کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں اور تلنگانہ حکومت میں پسماندہ طبقات کی ترقی یقینی ہوگی اور سماجی انصاف پر مبنی تلنگانہ ہوگا۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ ظہیر آباد سریش شٹکر، صدر ضلع کانگریس طاہر بن حمدان نے بھی مخاطب کیا اس جلسہ میں ارکان پارلیمنٹ پونم پربھاکر، مدھوگوڑ یاشکی، سابق وزیر سریدھر بابو ، محمد الیاس، این نرسنگ رائو، وینو گوپال گوڑ، کے سرینواس رائو ودیگر کانگریس قائدین بھی موجود تھے۔