محبوب نگر ۔ 19مارچ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) کانگریس ایک قدیم اور مضبوط پارٹی ہے جس کی بنیاد سیکولر اور مساوات پر رکھی گئی ہے کسی کے اس پارٹی میں شامل ہونے سے یا پھر چھوڑ کر چلے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ان خیالات کا اظہار مسٹر جئے رام رمیش مرکزی وزیر نے ضلع کانگریس کے دفتر میں ایک پُرہجوم پریس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ تلنگانہ کے عوام کافی باشعور ہیں اور وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ علحدہ تلنگانہ کا بل کانگریس نے تیار کیا اور پھر اس کو انتہائی نامساعد حالات میں منظور کروایا ۔ کئی سیاسی جماعتیں مخالفت پر اُتر آئے یہاں تک کہ بی جے پی جو شروع سے بل کی حمایت کا اعلان کررہی تھی آخری وقت میں تذبذب پیدا کررہی تھی لیکن سونیا گاندھی نے تلنگانہ عوام کے جذبات اور احساسات کے مقابل کسی کی ایک نہ سنی اور ثابت قدم رہتے ہوئے علحدہ تلنگانہ کے قیام کو یقینی بنایا ۔ انہوں نے مزید کہاکہ حیدرآباد 10سال تک مشترکہ دارالحکومت رہے گا اوریہاں کیس ارے ٹیکس جیسے ریونیو ‘ پراپرٹی ٹیکس ‘ انٹرٹینمنٹ ٹیکس ‘ سیلز ٹیکس ‘ اکسائز وغیرہ سے جو آمدنی ہوگی اس پر تلنگانہ کا ہی حق ہوگا ۔ گریٹر حیدرآباد کامن میونسپل کارپوریشن ہوگا ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے گورنر کو لامحدود اختیارات دینے کی بات نہیں کہی بلکہ کچھ کچھ خصوصی ذمہ داریاں دی گئی ہیں جو لا اینڈ آرڈر اور داخلی سلامتی سے متعلق ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ کوئی کہتا ہیکہ تلنگانہ بل کا مسودہ مکمل نہیں ہے ۔ وینکیا نائیڈو بھی یہی کہتیہ یں اور خود کرن کمار ریڈی نے تو عدالت کا دروازہ کھٹکٹھانے کی بات بھی کی ۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بل آرٹیکل 3اور 4کے تحت بنایا گیا ۔ سپریم کورٹ کے 4ججمنٹس 1959 ‘ 1979 ‘ 2002‘ 2009ء کے تحت قانوناً تقسیم عمل میں لائی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں 4000میگاواٹ پاؤر پلانٹ کے قیام کا منصوبہ ہے جو آندھراپردیش کا سب سے بڑا پاؤر پلانٹ ہوگا ۔ این ٹی پی سی نے کام شروع کردیا ہے ۔ آئندہ 5تا 6 سال میں یہ مکمل ہوجائے گا اوریہ گورنمنٹ آف انڈیا کے تحت ہوگا ۔ انہوں نے آندھرا سیما کو دیئے گئے بھاری پیکیج کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس سے قبل جھارکھنڈ ‘ بہار ‘مدھیہ پردیش وغیرہ میں ایسا پیکیج نہیں دیا ۔ انہوں نے ضلع محبوب نگر کی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سچ ہیکہ تلنگانہ کا پسماندہ ضلع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2004ء میں وزیراعظم کے ساتھیہا کا دورہ کیا تھا ۔
انہوں نے کہا کہ یہاں کے بیروزگاری کے خاتمہ کیلئے انڈسٹریز قائم کرتے ہوئے خاطرخواہ سبسیڈی دی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ ضلع میں 2004ء سے قبل صرف ایک اریگیشن پراجکٹ جورالا ہی تھا جس سے صرف ایک لاکھ ایکڑ سیراب ہوسکتی تھی لیکن کانگریس حکومت میں پچھلے 10برس میں نئے 4پراجکٹ بھیما ‘ ینٹم پاڈ اور کوئل ساگر وغیرہ قائم کئے گئے جس کے ذریعہ 8لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کا نشانہ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ گروپ آف مسنٹرس میں پالمورلفٹ اریگیشن کو قومی درجہ کا مطالبہ کیا تھا وہ کوئی اور نہیں بلکہ ڈی کے ارونا نے ہی کیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ سروے کا کام جاری ہے اور ٹکنیکل کلیرنس کا موقع آئے گا تو اس کیلئے کوشش کی جائے گی ۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ کا قیام سوشل جسٹس کی بنیادوں پرہوا ہے ۔ سوشل جسٹس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات کو سیاسی طاقت اور اقتدار دینا ہے ۔ آخر میں انہوں نے کہاکہ دونوں ریاستیں ایک گاڑی کے پہیہے ہیں ایک بھاشا دو راج ہیں ۔ دونوں ریاستوں کو پانی کی تقسیم میں انصاف کیلئے کرشنا ریور بورڈ قائم کیا گیا ہے۔ اس موقع پر ڈی کے ارونا ‘ جگدیشور ریڈی ‘صدر ضلع کانگریس عبیداللہ کوتوال ‘ لموروی‘ الطاف حسین ‘ محمد حنیف ‘ سنجیو مدیراج اور ضلعی کانگریس کے اہم قائدین موجود تھے۔