تھرواننتاپورم ۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر کیرالا پنارائی وجیئن نے آج بی جے پی اور دائیں بازو جماعتوں پر یہ الزام عائد کرتے ہوئے انہیں اپنی شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ ان کے سیاسی مفاد کیلئے سبری ملا مسئلہ کا استحصال کررہے ہیں اور لارڈ ایپا مندر پر قبضہ کرنے اور اسے کنٹرول میں لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ ماہواری کی عمر میں خواتین کے اس مندر میں داخلہ کے مسئلہ پر جاری احتجاج کے درمیان سخت ریمارکس میں وجیئن نے الزام عائد کیا کہ سنگھ پریوار کا ایجنڈہ ’’کارسیوکس‘‘ کو روانہ کرتے ہوئے کشیدگی پیدا کرنا ہے تاکہ اس مندر کا کنٹرول لیا جائے اور یاتریوں کو قربانی کا بکرا بنایا جائے۔ یہاں ایک پریس کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے اتوار کی شب مندر کامپلیکس سے 69 لوگوں کی گرفتاری کی بھی مدافعت کی اور کانگریس پر اس مندر میں پوجا کیلئے تمام عمر کی خواتین کو جانے کی اجازت دینے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد کرنے کی مخالفت کرنے پر سخت تنقید کی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سبری ملا مسئلہ پر آر ایس ایس اور کانگریس ایک ہوگئے ہیں۔ انہوں نے یہ ریمارکس صدر بی جے پی امیت شاہ کی جانب سے ایل ڈی ایف حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے یہ کہنے کے بعد کئے کہ ایل ڈی ایف حکومت سبری ملا کی صورتحال سے جس انداز میں نمٹ رہی ہے۔ وہ مایوس کن ہے اور اس حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ یاتریوں کے ساتھ ’’گلاگ ان میٹس‘‘ جیسا برتاؤ کررہی ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ان کی پارٹی سبری ملا روایت کی پاسداری کرنے والے ہر ایپا بھکت کے ساتھ ہوگی۔ امیت شاہ نے ٹوئیٹس کی ایک سیریز میں کہا کہ بی جے پی، ایل ڈی ایف کو عوام کے عقیدہ کو کچلنے نہیں دے گی۔ وجیئن نے زور دے کر کہا کہ سبری ملا کو ایک تشدد کے مرکز میں تبدیل ہونے نہیں دیا جائے گا اور ان کی حکومت مندر کامپلیکس میں تشدد کا ارتکاب کرنے والوں کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ وجیئن نے کہا کہ درشن کیلئے اس مندر آنے والے یاتریوں کو تمام تر تحفظ فراہم کیا جائے گا۔