سنگاریڈی۔ 18 ڈسمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاستی حکومت نے تلنگانہ میں واقع فاضل سرکاری اراضیات کو فروخت کرتے ہوئے 25 ہزار کروڑ روپئے جمع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ حکومت کی اس فکر کو عملی جامعہ پہنانے کیلئے محکمہ ریوینیو متحرک ہوچکا ہے اور سرکاری فاضل اراضیات کی نشاندہی میں مصروف ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلے مرحلے میں ضلع میدک میں فاضل سرکاری اراضیات کی فروختگی کے ذریعہ 100 کروڑ روپئے جمع کرنے کا نشانہ مقرر کیا گیا ہے جس کیلئے ضلع انتظامیہ نے قیمتی اراضیات کی نشاندہی کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے ایسی سرکاری عمارتیں اور اراضیات کو فروخت کرنے کی اجازت دی ہے جو زیراستعمال نہیں ہیں اور اس کی مارکٹ ویلیو بھی زیادہ ہو چنانچہ ضلع میدک میں بھی ایسی ہی اراضیات و بلڈنگس کی نشاندہی کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور مجوزہ فروخت شدنی سرکاری اراضیات و عمارتوں کی مکمل تفصیلات پر مبنی رپورٹ حکومت کو منظوری کیلئے روانہ کی جارہی ہے۔ حکومت سے منظوری کے بعد ان جائیدادوں کو ہراج کے ذریعہ فروخت کیا جائے گا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ضلع میدک میں فروخت شدنی جائیدادوں کی فہرست میں سنگاریڈی شہر کے قلب میں واقع قدیم کلکٹریٹ بلڈنگ بھی شامل ہے۔ سنگاریڈی میں جدید کلکٹریٹ کامپلکس کی تعمیر کے بعد سال 2011ء کلکٹر آفس کے بشمول 38 محکمہ جات کے ضلعی سطح دفاتر بھی جدید کلکٹریٹ کامپلکس منتقل ہوگئے۔ اس کے بعد قدیم کلکٹریٹ بلڈنگ آر ڈی او سنگاریڈی آفس اور اگریکلچر انجینئرنگ کالج کے عارضی کیمپس کو الاٹ کیا گیا تھا۔ سروے نمبر 217 میں واقع قدیم کلکٹریٹ بلڈنگ 4.35 ایکر اراضی کے احاطہ پر محیط ہے اور اس کی ایک جانب ضلع کلکٹر کا بنگلہ، ایک جانب ڈسٹرکٹ کورٹ بلڈنگ اور روبرو ضلع پریشد بلڈنگ واقع ہے۔ ضلع انتظامیہ نے اس کی مارکٹ قیمت 2.90 کروڑ روپئے فی ایکر طئے کرتے ہوئے جملہ 4.35 ایکر اراضی سے 14.15 کروڑ روپئے یا اس سے زیادہ وصول ہونے کی توقع کررہے ہیں۔ سنگاریڈی کی قدیم کلکٹریٹ بلڈنگ جو تاریخی حیثیت کی حامل ہے،
کی فروختگی کی عوامی حلقوں سے مخالفت کی جارہی ہے جبکہ ایک گوشہ کا نقطہ نظر ہے کہ اس فروختگی سے حاصل ہونے والی مکمل رقم کو سنگاریڈی ٹاؤن کی ترقی پر ہی خرچ کرنا چاہئے۔ فروخت شدنی اراضیات کی فہرست میں کوہیر منڈل کے موضع کویلی میں سروے نمبر 23 میں واقع 13.04 ایکر اراضی سے 2.62 کروڑ، رامچندر پور منڈل کے موضع کولور میں سروے نمبر 106 کی 2.31 ایکر اراضی سے 3.46 کروڑ، پٹن چیرو منڈل کے موضع سلطان پور میں 4.17 ایکر اراضی سے 1.32 کروڑ، موضع متنگی میں 14.20 ایکر اراضی سے 3.8 کروڑ، موضع اسناپور میں 3.31 ایکر اراضی سے 5.30 کروڑ، ظہیرآباد میں 10 ایکڑ اراضی سے 2 کروڑ اور چیگنٹہ منڈل کے موضع وڈیارم میں 34.26 ایکر اراضی سے 10.39 کروڑ روپئے حاصل کرنے کا تخمینہ تیار کیا گیا۔ سرکاری عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اس آمدنی سے نہ صرف سرکاری خزانہ کو تقویت ملے گی بلکہ ترقیاتی کام بھی تیز رفتار ہوں گے۔ منڈلوں میں اور ریوینیو ڈیویژن سطح پر تمام دفاتر کو ایک جگہ پر قائم کرنے بلڈنگس بھی تعمیر کئے جائیں گے۔ مجوزہ فروخت شدنی جائیدادوں کی فہرست میں عین وقت پر تبدیلی بھی ممکن ہے۔