سعودی فرمانروا اور اور ولیعہد کے بارے میں توہین آمیز گفتگو ناقابل برداشت

l جوابدہ ٹھہرا کر ہٹانے کا مطالبہ ایک ’’سرخ لکیر‘‘ : عادل الجبیر l میں ہر سعودی شہری کا نمائندہ ہوں
ریاض ،22نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ترکی میں واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جما ل خشوگی کے قتل کے بعد سے سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان کی پریشانیاں کم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہیں۔اب دنیا میں ان کے مواخذہ کی آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ صحافی جمال خشوگی کے قتل کے لیے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو جوابدہ ٹھہرا کر ہٹانے کا مطالبہ ایک ‘سرخ لکیر’ ہے ۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عادل الجبیر کا کہنا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان یا ان کے والد فرمانروا شاہ کے بارے میں کوئی بھی توہین آمیز گفتگو برداشت نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ‘‘سعودی عرب میں ہماری قیادت ایک سرخ لکیر ہے ، حرمین شریفین کے متولی (شاہ سلمان) اور محمد بن سلمان ایک سرخ لکیر ہیں’’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘‘وہ ہر سعودی شہری کی نمائندگی کرتے ہیں اور ہر سعودی شہری ان کی نمائندگی کرتا ہے اور ہم ایسی کسی بھی چیز کو برداشت نہیں کریں گے جو ہمارے بادشاہ یا شہزادے کی توہین کرے ’’۔واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے لیے لکھنے والے امریکی رہائشی اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ناقد جمال خشوگی 2 اکتوبر کو استنبول میں واقعہ سعودی قونصل خانے میں گئے تھے ، جہاں انہیں قتل کرکے مبینہ طور پر ٹکڑے کردئیے گئے تھے ۔ابتدائی طور پر سعودی عرب کی جانب سے اس معاملہ تک طویل وقت تک انکار کیا گیا لیکن بعد ازاں سعودی حکام نے اس کی ذمہ داری قبول کی اور کہا کہ 21 افراد کو حراست میں لیا گیا، تاہم امریکی میڈیا میں افشاء ہونے والی امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے ) کی تحقیقات میں مبینہ طور پر محمد بن سلمان کی طرف اشارہ کیا گیا تھا۔اسی حوالہ سے انٹرویو میں جواب دیتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ جمال خشوگی کے قتل میں محمد بن سلمان ملوث نہیں تھے ۔انہوں نے کہا کہ ‘‘ہم یہ واضح کرچکے ہیں، ہماری تحقیقات جاری ہیں اور ہم اس شخص کو سزا دیں گے جو اس میں ملوث ہوگا’’۔ اس موقع پر عادل الجبیر نے اس قتل کو انٹیلی جنس افسران کی جانب سے ‘بددیانتی پر مبنی کارروائی’ قرار دیتے ہوئے ترکی پر زور دیا کہ وہ قتل سے متعلق تمام ثبوتوں کے ساتھ آگے آئے اور معلومات کا افشاء ہونے سے روکے ۔سعودی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی جانب سے سعودی عرب پر کوئی بھی ممکنہ پابندیاں قلیل مدتی ہوگی کیونکہ امریکی صدر نے تیل کی قیمتیں کم رکھنے پر سعودی عرب کی تعریف کے بجائے جمال خشوگی کے قتل پر سعودی عرب کو فری پاس دینے کی تنقید کو نظرانداز کیا۔