ریاض ۔ 26 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب کے وزیرتجارت و سرمایہ کاری ماجد القصیبی نے کہا ہیکہ بیرونی تارکین وطن پر عائد کیس پر نظرثانی پر غوروخوض مکمل کرلیا گیا ہے۔ یہ جائزہ بہت جلد مجلس وزراء کو پیش کردیا جائے گا۔ ماجد القصیبی نے کہا کہ سعودی کابینہ اس کے فوائد اور چیلنجوں کا جائزہ لے گی اور اندرون ایک ماہ فیصلے کا اعلان کیا جائے گا۔ القصیبی نے مزید کہا کہ بیرونی تارکین وطن پر عائد فیس پر نظرثانی کیلئے کئے جانے والے جائزہ سے ملک اور قوم کو فائدہ پہنچا ہے۔ حکومت اس فیس کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کرچکی ہے لیکن تاحال یہ فیصلہ اٹل ضرور ہے لیکن اس کے ساتھ اس کے اثرات و عوامل کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔ سعودی وزیرفینانس محمد الجدعان نے گذشتہ ہفتہ مابعد بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ تارکین وطن پر عائد فیس میں تبدیلی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ فیس گذشتہ سال متعارف کی گئی تھی۔ وزیر اقتصاد و منصوبہ بندی محمد التویجری نے بلوم برگ کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ سعودی عرب، بیرونی تارکین وطن پر فیس عائد کرنے کی پالیسی کو بدستور برقرار رکھے گا لیکن کسی معاشی و اقتصادی ضرورت کے مطابق اس پر دوبارہ غور و نظرثانی کیلئے ہمیشہ تیار رہے گا۔ جنوری کے دوران مملکت سعودی عرب کی کمپنیوں میں ہر تمام بیرونی تارکین وطن پر فی کس 400 سعودی ریال ماہانہ کی فیس عائد کی گئی تھی لیکن بیرونی ملازمین سے مساویانہ یا زائد تعداد میں سعودی ملازمین رکھنے والی کمپنیوں پر بطور رعایت فی کس 300 ریال ماہانہ فیس مقرر کی گئی تھی۔ اندیشے ہیں کہ 2019ء میں اس فیس کو فی بیرونی 500 تا 600 ریال ماہانہ اور 2020ء میں فی بیرونی ورکر 700 تا 800 ریال تک بڑھا دیا جائے گا۔