خشوگی بحران سے چمک دمک زائل ، کئی اہم شخصیات کا چوٹی کانفرنس میں شرکت سے گریز
ریاض۔ 24 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) ہوٹل کیلیفورنیا میں وفود نے سعودی عرب کی سرمایہ کاروں کی چوٹی کانفرنس کے دوران علیحدہ طور پر اپنے ایک اجلاس منعقد کیا۔ منتظمین نے اس کے موضوعات میں معمول کے موضوعات کے علاوہ عالمگیر سطح پر سی ای اوز کے ویزاؤں کی جمال خشوگی قتل مقدمہ کی وجہ سے تنسیخ کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ کئی ارب مالیتی امریکی ڈالر کے بڑے سودے طئے ہوئے اور امکانی سرمایہ داروں کی ایماء پر ریاض میں ایک پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جبکہ وفود ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ سیلفیاں لینے کیلئے ٹوٹ پڑے۔ ان کی آمد پر پورے حاضرین نے تالیاں بجاکر ان کا استقبال کیا، لیکن تین روزہ چوٹی کانفرنس میں جسے سودی عرب نے اپنا ایک اہم پروگرام قرار دیا تھا۔ ریگستانی اور تیل کی دولت سے مالامال مملکت نے ترغیب دینے والے کاروبار ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خشوگی قتل معاملے سے متاثر ہوئے تھے۔ دنیا کے اعلیٰ سطحی تیل برآمد کنندہ ممالک نے اس بدترین بحران کو چوٹی کانفرنس کا ایک موضوع بنایا۔ گزشتہ سال کی افتتاحی ایف آئی آئی میں جن کمپنیوں نے شرکت کی تھی، اس بار انہوں نے شرکت سے گریز کیا۔ شہزادہ محمد نے کہا کہ سرمایہ کاروں نے 500 ارب امریکی ڈالر مالیتی بڑے سودے طئے کئے۔ سعودی عرب شہریوں کی جانب سے روبوٹ ’’صوفیہ‘‘ کو بھی چوٹی کانفرنس کا ایک موضوع بنایا گیا۔ یہ فورم ایک معاشی پارٹی کی حیثیت رکھتی ہے تاہم خود ساختہ اصلاح پسندوں نے عالمگیر سطح پر خاتون ڈرائیورس پر امتناع کی برخاستگی کی ستائش کی گئی۔ انتہائی قدامت پرست مملکت کو جدید ترین بنانے کے پرعزم منصوبہ بھی عالمی ستائش کے مستحق قرار پائے، لیکن گزشتہ سال سب سے بڑا پرکشش موضوع جاریہ چوٹی کانفرنس کے موضوعات کی فہرست سے خارج کردیا گیا تھا۔ برطانوی ارب پتی رچرڈ برینٹگن، سافٹ بینک کے سربراہ ماسا یوشی شونمے اور چیف ایگزیکٹیو سیمنس جوکیسٹر اُن 12 عالمی تاجر طبقہ کی نامور شخصیتوں میں شامل تھے، جنہوں نے چوٹی کانفرنس میں شرکت سے گریز کیا۔ مغربی ذرائع ابلاغ نے پرتکلف دعوت میں اپنے ٹی وی اینکرس جیسے فاکس نیوز کی ماریا بارٹی رومو کو روانہ کیا تھا۔ انہوں نے شہزادہ محمد کی کمیٹی میں گزشتہ سال شرکت کی تھی، لیکن موجودہ چوٹی کانفرنس میں وہ بھی غیرحاضر تھیں۔ منتظمین نے ایجنڈہ میں مسلسل تبدیلیاں کیںاور مقررین کو روک دیا گیا۔