جدہ ، 15 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) بائیس (22) ہندوستانی ورکرز جو اُن کا آجر لیبر قانون کی خلاف ورزی پر 24,000 امریکی ڈالر جرمانوں کی ادائیگی نہ کرنے سے اس سعودی شہر میں گزشتہ چھ ماہ سے پھنسے ہیں، عنقریب وطن واپس ہوسکتے ہیں، ایک سینئر ہندوستانی سفارت کار نے آج یہ بات کہی۔ ہندوستان سے جملہ 62 ورکرز سعودی عرب کو اُن کے اسپانسر نے گزشتہ فبروری میں لائے تھے، لیکن انھیں ’اقامہ جات‘ یا اجازت نامہ جات قیام فراہم نہیں کرسکا کیونکہ یہ سرخ نطاقت زون میں ہے۔ قانون ’نطاقت‘ مقامی کمپنیوں کیلئے یہ لازمی کرتا ہے کہ ہر 10 بیرونی ورکرز کے مقابل ایک سعودی شہری کو ملازمت فراہم کرے۔ اسپانسر …دمام نشین سیجانگ سعودی (کورین) کنٹراکٹنگ کنسٹرکشن کمپنی … کو لیبر قانون کی خلاف ورزیوں کی پاداش میں جرمانوں کے طور پر 90,000 سعودی ریال (24,000 ڈالر) وزارت محنت کو ادا کرنا چاہئے تھا لیکن اس نے یہ رقم ادا نہیں کی۔ ہندوستانی قونصل جنرل بی ایس مبارک نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ جب تک ورکرز کو باقاعدہ نہیں بنایا جاتا، انھیں ایگزٹ ویزا جاری نہیں کیا جاسکتا، جو اس ملک کی کچھ منفرد شرط ہے۔ اسپانسر نے ان ورکرز کو ذیلی کنٹراکٹ کے تحت یہاں کی ایک کنسٹرکشن کمپنی کو سونپ دیا تھا، لیکن وہ پراجکٹ جولائی میں موقوف ہوگیا۔ یہ ورکرز تب سے بے روزگار ہیں۔ مبارک نے کہا کہ حال میں اُن میں دو ورکرز مدینہ گئے اور وہاں محروس کرلئے گئے جس پر ہندوستانی قونصل خانہ کو مداخلت کرنا تاکہ انھیں رہا کراتے ہوئے واپس جدہ لا سکے۔ ان ورکرز نے لیبر کورٹ میں شکایت درج کرائی جس کے بعد اُن میں سے سات ہندوستان کو لوٹ گئے اور بعد میں 30 ورکرز کا ایک اور گروپ واپس بھیج دیا گیا۔ مبارک نے کہا کہ اسپانسر ہمیں گزشتہ دو ماہ سے کئی بار تیقنات دیتا آیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ دس ورکرز کو آئندہ ہفتے تک ہندوستان واپس بھیج دیں گے اور بقیہ کو جنوری کے آخری ہفتے تک۔ جدہ میں ہندوستانی قونصل خانہ ان 22 ورکرز کو ہر روز غذا فراہم کررہا ہے۔