سینٹ لوشیا 17 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) سری لنکا نے ویسٹ انڈیز میں دوسرا ٹسٹ بھی بطور احتجاج جاری رکھنے پر رضا مندی ظاہر کی ہے جبکہ ٹیم کو بال ٹیمپرنگ تنازعہ کا سامنا ہے ۔ کھیل کا آغاز دو گھنٹے کی تاخیر سے ہوا جبکہ سری لنکا نے کپتان دنیش چنڈیمل کی قیادت میں میدان پر آنے سے انکار کردیا تھا جبکہ فیلڈ امپائروں علیم ڈار اور ایان گولڈ نے دورہ کنندہ ٹیم پر دوسرے دن کے کھیل کے دوران گیند کی ہئیت بدلنے کا الزام عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ سری لنکا کی ٹیم کو پانچ رن کی پنالٹی کا سامنا تھا حالانکہ یہ نسبتا معمولی سزا ہے لیکن اس کا کوئی اثر نہیں ہوا کیونکہ سری لنکا کی ٹیم اس بات پر برہم تھی کہ ان پر دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے ۔ ٹیم کی برہمی کے بعد میچ ریفری جواگل سریناتھ اور سری لنکا کے دو عہدیداروں کو چ چنڈیکا ہتھورا سنگھا اور ٹیم مینیجر اسنکا گرو سنہا کے مابین بات چیت کا آغاز ہوا ۔ یہ تاثر مل رہا تھا کہ آج کے دن کاکھیل اور پھر میچ کے باقی ایام کا کھیل بھی ممکن نہیں رہے گا تاہم ان مذاکرات کے بعد سری لنکا نے گیند بدلنے اور کھیل جاری رکھنے سے اتفاق کیا ۔ سری لنکا کے کھلاڑی اس اتفاق کے بعد میدان پر جاتے ہوئے بھی پس و پیش کا شکار تھے جس کے بعد دوبارہ بات چیت ہوئی اور بالآخر اس کے کھلاڑیوں کو کھیل شروع کرنے کی کامیاب ترغیب دی گئی ۔ اس طرح دو گھنٹوں کی تاخیر سے کھیل کا آغاز ہوا ۔ ایک بیان میں سری لنکا کرکٹ نے اپنے کھلاڑیوں کے موقف کی تائید کی ہے اور کہا کہ ٹیم انتظامیہ نے مطلع کیا کہ سری لنکا کے کھلاڑی کسی غلط کاری میں ملوث نہیں رہے ہیں۔ کولمبو میں ٹیم اور بورڈ کے ذمہ داران سے بات چیت کے بعد ہی چنڈیمل اور ساتھی کھلاڑیوں کو میچ جاری رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے ۔