منااکھیلی؍14جون (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)سرکاری اسکول اور سرکاری اسکیم کے طلباء ہی حکومت کے ہوتے ہیں ۔ ہم ہماری اسکیم کے تحت پڑھنے والے ان طلباء کے لئے ہم سے جتنا ہوسکتاہے وہ ضرور کریں گے۔ یہ بات ڈپٹی کمشنر ڈاکٹرپی سی جعفر نے کہی۔ وہ شاہین کالج بیدر میں سرکاری ہاسٹل میں پڑھنے والے پی یوسی سال اول کے طلباء سے خطاب کررہے تھے۔ یہ ایسے طلباء جو سرکاری کالج میں رہیں گے لیکن ان کی کوچنگ معیاری خانگی کالجس میں ہوگی ۔ موصوف نے طلباء کے والدین سے کہاکہ آپ ہمارے پاس ان بچوں کو دوسال کے لئے چھوڑجائیں ، ان کی بہتر تعلیم کے لئے انھیں شادی بیاہ میں بھی نہ لے جائیں ۔ اس کے بعد دیکھئے گاکہ جو نتائج آئیں گے اس سے ضلع بیدر مستفید ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر نے پرمزاح انداز میں کہاکہ شاہین کالج نہیں بلکہ شاہین سنٹرل جیل ہے یہاں طلباء اپنی مرضی سے آتے ضرور ہیں لیکن اپنی مرضی سے جانہیں سکتے جب تک کہ وہ اعلیٰ تعلیم کے قابل نہ ہوسکیں۔ بہترکالج میں تعلیم حاصل کرنے کے فوائد بتاتے ہوئے موصوف نے کہاکہ صرف سی ای ٹی کو ہی End of Lifeنہ سمجھیں ۔ اگر سی ای ٹی میں وہ رینک نہ مل سکے جو مطلوب ہے تو آپ یہ سمجھئے کہ اوپر والے نے آپ کے لئے کچھ اور اچھا سوچ رکھاہے۔ ڈاکٹر پی سی جعفر نے ان طلباء سے اپیل کی کہ وہ ڈاکٹر اور انجینئر بننے سے پہلے اچھا انسان بنیں ۔ اور ایسے تعلیمی نظام کا حصہ بننے سے گریز کریں جس کی بنیاد نقل نویسی پر ہو۔ ڈگری اور نوکری ملنے سے قبل اچھی محنت لازمی ہے۔ اپنی تقریر کے آخر میں طلباء کو تلقین کی کہ یہ اسکیم انوکھی اسکیم ہے اگر خانگی اداروں کے ذریعہ تعلیم حاصل کرتے ہوئے سرکاری ہاسٹل کے طلباء بہتر رینک لاتے ہیں تو آئندہ بھی ہزاروں بچوں کو اس کا فائدہ ہوگااور اس کے لئے آپ کو محنت کرنی ہوگی اس لئے کہ آپ کا بیاچ پہلا بیاچ ہے ۔ اگر یہ بیاچ کامیاب ہوتاہے تب ہی اس کی جگہ دیگر بیاچس لے سکیں گے۔ آپ کی محنت پر ہزاروں طلباء کا مستقبل کھڑا ہے۔ لہٰذا کوشش کرکے اچھا پڑھیں اور اپنے پیچھے آنے والوں کو موقع دیں ۔ ڈاکٹر سنیل پنوار ضلع جنگلات افسر نے اپنے خطاب میں طلباء کو بتایاکہ ہمارافیملی بیک گراؤنڈ بھی مالی استحکام نہیں رکھتا ۔ اس کے باوجود ہم نے پڑھائی کی ۔ ضلع انتظامیہ چاہتاہے کہ طلباء اپنے مستقبل کو سنوارنے محنت کریں اور آگے بڑھیں ، ہم ہرگام پر سرکاری اسکولوں اور کالجس کے طلباء کی ممکنہ رہنمائی فرمائیں گے۔ اس تقریب کا آغاز صبح اور دوپہر کے سیشن پر مشتمل تھا۔ صبح کے تعارفی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے عبدالقدیر سکریڑی شاہین ادارہ جات بیدر نے کہاکہ پی یوسی کے دوسال میں طلباء کی دنیا بدل جاتی ہے۔ بڑاتغیر واقع ہوتاہے لہٰذا اس سے مستفید ہوں ۔ ہاسٹلس میں رات کو بھی اپنی پڑھائی جاری رکھیں ۔ مسٹر رشی کیش دیسائی بہادرنمائندہ انگریزی روزنامہ ’’داہندو‘‘ نے خصوصی طورپر طلباء کو خطاب کیااور کامیاب ہونے کے گر بتائے۔ اور کہاکہ اونچے مقام پر پہنچ کر تم پرلازم ہے کہ دوسروں کو بھی اس مقام تک پہنچنے کی ترغیب دیا کرو۔ موصوف نے ضلع انتظامیہ کے اس فیصلہ کی تعریف کی کہ سرکاری ہاسٹل کے طلباء اب خانگی اداروں میں مفت تعلیم حاصل کریں گے۔ محمدیوسف رحیم بیدری رکن کرناٹک اردو اکیڈمی نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے انھیں مشکل راہوں پر ثابت قدم رہنے اور انھیں ہموار کرنے کی نصیحت کی اور کہاکہ ہرآسان کام ابتداء میں مشکل نظر آتاہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ابتدائی مشکلات کو دیکھتے ہوئے کنارہ کشی اختیارکرلی جائے یاپھر اگر ناکامی ہوتو خودکشی ہی کرلیں ۔ زندگی خوبصورت ہے ، زندگی امانت ہے ، زندگی جینے لائق ہے۔ ہزار غم سہی ہزار مسائل سہی لیکن زندگی کاجواب نہیں ۔ بنگلور کے انجینئر ثناء اللہ نے بھی خطاب کیا۔ دوسرے سیشن کے اختتام پر ضلع مینارٹی افسر شیوکمار نے طلباء وطالبات کوہدایات دیں اور انھیں ان کے الاٹ کئے گئے ہاسٹلس کی طرف رہنمائی کی۔ واضح رہے کہ اس پروگرام میں اولیائے طلباء بھی شریک تھے۔