کریم نگر۔/8مئی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ ریاست کی علحدہ تقسیم نو تشکیل کے سلسلہ میں ملازمین کی تقسیم کا عمل بہت ہی رازدارانہ انداز میں کئے جانے کی وجہ سے تلنگانہ کے رہنے والے ملازمین میں شکوک و شبہات اور تشویش پیدا ہوچکی ہے۔ ملازمین کی تبدیلی، تلنگانہ سے آندھرا کو بھیجے جانے میں ان کی اپنی مرضی کا بھی جائزہ لیا جائے گا اور ان کی پسند کا خیال رکھا جائے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بارے میں ابھی غور و فکر کیا جارہا ہے یہ بھی اعلان کیا گیا بلکہ آپشن (Option)انتخاب کا حق ہر ملازم کی مرضی پر بھی غور ہوگا ۔ اس طرح کے متضاد بیانات اور افواہوں کی وجہ سے ملازمین تلنگانہ میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر آپشن حق انتخاب دیا جائے تو ایک اور پورے شدومد کے ساتھ تحریک جدوجہد کا آغاز ہوگا۔ منصوبہ بند طریقہ سے بڑے پیمانے پر آندولن کی تیاری کی جائے گی۔ ملازمین جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے انتباہ دیا تھا ، اسی کے مدنظر حکومت ملازمین کی تقسیم کے پروگرام پر رازدارانہ انداز اختیار کئے ہوئے ہے۔ اسی دوران ٹی این جی اوز سنگھم تلنگانہ کے 10اضلاع میں سرکاری محکمہ جات میں برسرخدمت آندھرائی ملازمین کی تمام تر تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ حیدرآباد سکریٹریٹ میں برسر خدمت اعلیٰ عہدیداروں کی تفصیلات بھی جنگی خطوط پر حاصل کئے جانے کی اطلاع ہے۔ ریاست کی تقسیم کے بل کی پارلیمنٹ میں منظوری سے قبل بھی ریاستی حکومت نے جنوری میں ہیلت کارڈ کی اجرائی کے لئے سی ایف ایم ایس سسٹم کے ذریعہ برسر خدمت ملازمین کی تمام تر تفصیلات حاصل کرلئے تھے۔ اس طرح محکمہ جاتی ملازمین کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔ پارلیمنٹ میں بل کی منظوری کے بعد ازاں 2جون کو29ویں ریاست تلنگانہ کی تشکیل ہونے کو ہے۔ چنانچہ مئی کے اواخر تک ملازمین کی تقسیم بھی پوری ہوجانی چاہیئے۔ حیدرآباد دونوں ریاستوں کا دس سال تک مشترکہ دارالحکومت رہے گا۔ اس تعلق سے تلنگانہ بل میں ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مدنظر آندھرائی ملازمین سے ان کی مرضی (Option)کی جانکاری کیلئے تیار ہے۔ تلنگانہ این جی اوزکا کہنا ہے کہ تقسیم مقامی اور غیر مقامی علاقائی مسئلہ ہونا چاہیئے انہیں اختیار دے دیا جائے تو آندھرائی یہاں رہنے کو ترجیح دیں گے۔