سرپور پیپر ملز کے احیاء کا مطالبہ

سرپور ٹاؤن 24 اپریل (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سرپور ٹاؤن مستقر میں اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے سابق اپوزیشن لیڈر گوئند ملیش نے کہاکہ علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے ساتھ اقتدار حاصل کرنے والی ریاستی تلنگانہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے تعمیراتی اور ترقیاتی کاموں کو انجام دینے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ ریاستی حکومت تلنگانہ اقتدار حاصل کرنے سے قبل کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئی ہے اور دن بہ دن عوام کو کافی مشکلات ہورہی ہی اور علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد عوامی ترقیاتی کام ٹھپ ہوگئے ہیں، جوکہ نظام دور حکومت میں شروع کی گئی ہیں۔ سرپور پیپر ملز 27 سپٹمبر 2014 ء کو مکمل طور پر بند کردی گئی۔ جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں اس لئے جلد از جلد سرپور پیپر ملز کو دوبارہ شروع کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ نظام دور کی نشانی باقی رہے۔ اس کے علاوہ پراناہیتا چیوڑلہ پراجکٹ 35000 کروڑ روپیوں کی لاگت سے شروع کیا گیا لیکن تلنگانہ حکومت کے دور میں اس پراجکٹ کو بند کردیا گیا۔ اس لئے ریاستی حکومت سے عوام اور سی پی آئی پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ سرپور پیپر ملز اور پراناہیتا پراجکٹ کو دوبارہ شروع کرتے ہوئے ضلع عادل آباد ایک لاکھ66 ہزار 500 ایکر اراضی کو پانی سربراہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اُنھوں نے ریاستی تلنگانہ حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مشن کاکتیہ کے ذریعہ ٹی آر ایس پارٹی قائدین اور کارکنوں کو فائدہ ہورہا ہیں۔ اس لئے یہ مشن کاکتیہ نہیں ہے۔ بلکہ ٹی آر ایس لیڈرس کو کمیشن کاکتیہ ہے۔ اس میں کنٹراکٹروں کو بھی فائدہ ہورہا ہے اور دلتوں کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ اس لئے سی پی آئی پارٹی کی جانب سے ریاستی تلنگانہ حکومت سے مطالبہ ہے کہ تلنگانہ حاصل کرنیس ے قبل کئے گئے وعدوں کو پورا کرتے ہوئے عوامی مسائل کی یکسوئی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اگر عوامی مسائل اور بند کئے گئے اسکیمات کو دوبارہ شروع نہ کرنے پر سی پی آئی پارٹی کی جانب سے 2 مئی تا 10 مئی حلقہ واری اور ضلعی سطح پر احتجاجی دھرنا پروگرامس منعقد کرنے کا سامق اسمبلی فلور لیڈر گونڈا ملیش نے ریاستی حکومت کو انتباہ دیا۔ اس پریس میٹ کے موقع پر سی پی آئی سرپور ٹاؤن تعلقہ انچارج ویدیلو، ڈسٹرکٹ سکریٹری تروپتی اور آشالو بھی موجود تھے۔