کاماریڈی ۔ 11 اگست ۔ (ذریعہ فیاکس) ممتاز افسانہ نگار و صدر انجمن ترقی اردو جناب رحیم انورؔ نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ حکومت کی جانب سے گھر گھر سروے کا پروگرام جو 19 اگست کو مقرر ہے یہ جامعہ خاندانی سروے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس لئے کہ اس سروے سے مستحق لوگوں کو ہر اسکیم سے مستفید ہونے کا موقعہ مل سکے گا ۔ سروے فارم میں اردو زبان کا نہ ہونا افسوسناک ہے جس سے اقلیتی طبقہ میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ اب جبکہ ریاست میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہے اور محبان اردو یہاں کثیرتعداد میں ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس بات کو ملحوظ رکھیں ۔ سابق حکومت میں بھی سروے کے وقت مسلمانوں کے نام اور تفصیلات کے اندراج میں غلطیاں ہوئی اب جبکہ تلنگانہ ریاست کاقیام عمل میں آچکا ہے جناب رحیم انورؔ نے امید ظاہر کی کہ حکومت کی جانب سے جو اسکیمات فلاح و بہبودی کیلئے منظور کی جائیگی اس سے عوام صحیح سروے کی بدولت اس سے استفادہ حاصل کرسکیں گے ۔ انھوں نے مسلمانوں سے خواہش کی کہ وہ اس موقعہ پر موجود رہے تاکہ وہ ان اسکیمات سے مستفید ہوں۔