سدی پیٹ کو عنقریب ضلع کا درجہ ، کے سی آر کا اعلان

سدی پیٹ۔/10ڈسمبر، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عنقریب مستقر سدی پیٹ کو ضلع کا درجہ دینے، ریلوے لائن سے مربوط کرنے، کسانوں کو زراعت کیلئے آبپاشی کی سہولیات سے مالا مال کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے تلنگانہ این جی اوز بھون کی گولڈن جوبلی کا افتتاح کرتے ہوئے این جی اوز بھون کی مزید نئی عمارت کی تعمیر کیلئے اپنے فنڈ سے 50لاکھ کی منظوری کا اعلان کیا۔ اس طرح وکلاء کیلئے ایڈوکیٹ کالونی کے نام سے نئی کالونی کی تعمیر اور کانفرنس ہال کی عمارت کا تیقن دیا۔ قبل ازیں چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر راؤ نے مستقر سدی پیٹ کے احاطہ فلٹر بیڈ میں حلقہ اسمبلی سدی پیٹ کے ترقیاتی کاموں کے جائزہ اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے محکمہ انجینئرنگ کے عہدیداروں پر زور دیا کہ وہ تلنگانہ کے 9اضلاع کی عوام کے گھر گھر پینے کے لئے فلٹر پانی کی فراہمی کیلئے سدی پیٹ کے فلٹر گرڈ کے طرز پر ساری ریاست میں فلٹر گرڈ تعمیر کرتے ہوئے گھر گھر صاف و شفاف پانی کی سربراہی کے اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت کا اولین مقصد ہے کہ وہ ریاست کے ہر گھر کی عوام کو صاف اور شفاف پانی کی سربراہی کو یقینی بنائیں تب ہی سنہرے تلنگانہ کی تعمیر نو کو تقویت حاصل ہوگی۔ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مزید کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کافی جدوجہد کے بعد حاصل ہوئی ہے اور اس کی تعمیر نو کیلئے محکمہ انجینئرنگ کے عہدیداروں کی دلچسپی و جستجو کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ان کو تمام تر سہولیات بہم پہنچائے گی فنڈس کی کوئی کمی نہیں ہے۔ واضح رہے کہ 1999ء اور 2000ء میں 60کروڑ کی لاگت سے شہر سدی پیٹ کو لوئیر مانیر ڈیم ( کریم نگر ) سے 60کیلو میٹر کے فاصلہ پر پائپ لائن کے ذریعہ سدی پیٹ کو فلٹر گرڈ کی تعمیر کو عمل میں لاتے ہوئے ٹاؤن کے بشمول 180 مواضعات کے عوام کو فلٹر واٹر کی سربراہی کو یقینی بنایا گیا تھا۔ اس وقت سدی پیٹ میں پینے کے پانی کی قلت سے عوام مشکلات سے دوچار ہورہے ہیں۔ انہوں نے محکمہ آبرسانی کو ہدایت دی کہ وہ اپنے اپنے اضلاع و حلقہ جات کے عوام کو اسی طرز پر آبی سربراہی کو یقینی بنائیں۔

چیف منسٹر نے بتایا کہ میڈ مانیر ڈیم کی تعمیر کے ذریعہ ضلع کے تمام حلقہ جات کو آبی سربراہی یقینی بنانے کیلئے سری سیلم پراجکٹ کے ذریعہ ضلع محبوب نگر، نلگنڈہ اور رنگاریڈی کے عوام کو آبی سربراہی فراہم کی جائے۔ قبل ازیں وہ کومٹ تالاب کے پشت کو عوام کیلئے سیاحتی مرکز میں تبدیل کرتے ہوئے اس پر 7کروڑ کی لاگت سے تعمیر شدہ بلڈنگ کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر نائب وزراء مسٹر محمد محمود علی اور ڈاکٹر راجیا، ریاستی وزراء، این نرسمہا ریڈی ای راجندر، مہندر ریڈی، پوچارم سرینواس ریڈی، جگدیش ریڈی، جوگو رامنا، ڈپٹی اسپیکر شریمتی پدما دیویندر ریڈی، صدر ضلع ٹی آر ایس آر ستیہ نارائنہ، ٹی ہریش راؤ، ایم ایل سی فاروق حسین، ایم ایل سی پی سدھاکر ریڈی، کوتہ پربھاکر ریڈی رکن پارلیمنٹ، ضلع انچارج کلکٹر ڈاکٹر شرت، ضلع پریشد چیرمین شریمتی راجہ منی، ایکزیکیٹو ڈائرکٹر میناریٹیز کارپوریشن سید احمد علی، ڈی ایف میدک سونی بالا ای ایف ایس انچارج پی آر او سدی پیٹ کمال الدین کے علاوہ ضلع میدک کے ارکان اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ انجینئرنگ کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی۔ ملت اسلامیہ کی جانب سے غوث محی الدین زمیندار نے شال پوشی اور گلپوشی کی۔اس موقع پر سرور علیم، نیر پٹیل موجود تھے۔ چیف منسٹر کا پہلی مرتبہ آمد پر والہانہ استقبال کیا گیا۔ ڈی آئی جی گنگادھر ضلع ایس پی شموشی بجاج کی راست نگرانی میں پولیس کا وسیع تر بندوبست تھا۔