سدرامیا پر رشوت خوری کی جھوٹی شکایت مسترد عرضی گذارکو عدالت میں25جون کو حاضری کا حکم

بنگلورو۔20؍مئی(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیاپر ارکاوتی لے آؤٹ میں زمین ڈی نوٹی فائی کرانے کیلئے رشوت لینے کا جھوٹا الزام لگاکر لوک آیوکتہ سے رجوع ہونے والے عرضی گزار کو آج لوک آیوکت نے عدالت میں حاضری کا نوٹس جاری کیا، اور ساتھ ہی اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ سدرامیا کے خلا ف درج شکایت خارج کردی۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کی طرف سے اس سلسلے میں لوک آیوکتہ عدالت کو ایک تفصیلی وضاحت روانہ کی گئی ، جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے شکایت درج کرنے والے رام مورتی گوڈا کو عدالت میں حاضری کا حکم دیا۔ رام مورتی گوڈا نے لوک آیوکتہ میں ستمبر 2014 کے دوران یہ شکایت درج کرائی تھی کہ وزیر اعلیٰ سدرامیا نے ارکاوتی لے آؤٹ میں 500 ایکڑ زمین غیر قانونی طور پر ڈی نوٹی فائی کرائی ہے، اور اس کے عوض انہوںنے تین سو کروڑ روپیوں کی رشوت لی ہے۔ اس سلسلے میں لوک آیوکتہ کے رجسٹرار انوسٹی گیشن کی طرف سے وزیراعلیٰ کے نام ایک نوٹس جاری کرکے اس سلسلے میں وضاحت طلب کی گئی۔ چند دن قبل وزیر اعلیٰ سدرامیا نے اس سلسلے میں تین صفحات پر مشتمل وضاحت میں بتایاکہ انہوںنے کوئی غیر قانونی ڈی نوٹی فکیشن نہیں کیا ہے۔ فریادی نے جو الزامات لگائے ہیں وہ بعید از حقیقت ہیں۔ اسی لئے اس شکایت کو فوراً رد کیا جائے۔ وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ارکاوتی ڈی نوٹی فکیشن معاملے کی جانچ کیلئے ریاستی لیجسلیچر کے فیصلے کے مطابق جسٹس کیمپنا کمیشن قائم کیا گیا ہے، اس سلسلے میں کوئی بھی شکایت وہاں در ج کی جاسکتی ہے۔ وزیر اعلیٰ سدرامیا کی طرف سے الزامات کی تردید اور اس کیلئے ضرورت پڑنے پر بذات خود تردید کیلئے لوک آیوکتہ عدالت میں حاضری کی پیش کش کو دیکھتے ہوئے عدالت نے سدرامیا کے خلاف شکایت مسترد کردی، اور عرضی گذار کو ہدایت دی کہ وہ اپنے پاس موجود تمام دستاویزات کے ساتھ25 جون کو عدالت میں حاضر ہو۔