پیشرو حکومت کے فیصلوں کی تنسیخ کے خلاف احتجاج
پٹنہ ۔ 9 ۔ مارچ : ( سیاست ڈاٹ کام ) : بہار کے سابق چیف منسٹر جتن رام مانجھی نے آج اپنی پیشرو حکومت کے کابینی رفقاء کے ساتھ گاندھی میدان پر ایک روزہ بھوک ہڑتال شروع کردی تاکہ ان کی کابینہ کے فیصلوں کو نتیش کمار حکومت کی جانب سے تنسیخ کیے جانے کے خلاف احتجاج کیا جاسکے ۔ جنتادل متحدہ کے باغی ارکان اسمبلی کے ساتھ مانجھی اور ان کے سابق حکومت کے کابینی ارکان نے مجسمہ مہاتما گاندھی کے قریب بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے تاکہ ان کی کابینہ نے استعفیٰ سے قبل جو 24 فیصلے کئے تھے ۔ موجود چیف منسٹر نتیش کمار کی جانب سے ختم کئے جانے پر احتجاج کیا جاسکے ۔ سابق چیف منسٹر جتن کمار مانجھی نے اپنے سیاسی گرونتیش کمار کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کابینی فیصلوں کی تنسیخ غیر قانونی ہے ۔ اپنے فیصلوں کی مدافعت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی کابینہ نے غریب عوام کے مفاد میں جو فیصلے کئے ہیں وہ جائز اور منصفانہ ہیں ۔ ان فیصلوں پر عمل آوری کے لیے فنڈس کی قلت کابہانہ بنانے پر انہوں نے الزام عائد کیا کہ دراصل نتیش کمار ترقی کی بجائے اپنی شہرت اور ستائش کے لیے سرکاری فنڈس کا بیجا استعمال کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل میوزیم ، کنونشن سنٹر ، اسمبلی کے لیے نئی عمارت اور ارکان اسمبلی کے لیے نئی رہائش گاہوں کی تعمیر کے لیے کروڑہا روپئے کے پراجکٹس کی چنداں ضرورت نہیں ہے چونکہ ہم ریاست میں غربت کے خلاف جدوجہد کررہے ہیں ۔ اس طرح کی عمارتیں غیر ضروری ہیں ۔ مذکورہ بھوک ہڑتال میں مانجھی کابینہ کے وزراء نریندر سنگھ ، برسن پٹیل ، نتیش مصرا ، مہا چندرا پرساد سنگھ اور جنتادل متحدہ کے باغی ارکان اسمبلی گیندر سنگھ گیانو ، پونم دیوی ، سینئیر قائدین شیوانند تیواری ، اور شکونی چودھری نے حصہ لیا ۔ یہ احتجاج نو تشکیل شدہ تنظیم ہندوستانی مورچہ (HAM) کے زیر اہتمام کیا گیا ۔ شرکاء نے عام آدمی پارٹی تقلید کرتے ہوئے اپنے سروں پر گاندھی ٹوپی لگائی تھی ۔۔