’’زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے‘‘ افتخارِ ادب

ڈاکٹر مغنی تبسم
اجمالی تعارف :
نام : محمد عبدالمغنی۔ قلمی نام : ڈاکٹر مغنی تبسم۔ پیدائش 13 جون 1930 ء ۔ وفات : 15 فروری 2012 ء ۔ تعلیم : پی ایچ ڈی ۔ کتابیں (1) نوائے تلخ (شعری مجموعہ) ، (2) پہلی کرن کا بوجھ (شعری مجموعہ) ، (3) مٹی مٹی میرا دل (شعری مجموہع)، (4) درد کے خیمے کے آس پاس (شعری مجموعہ)، (5) فانیؔ بدایونی حیات شخصیت اور شاعر (تحقیقی مقالہ)، (6) نذر فانیؔ بدایونی (تالیف)، (7) فانیؔ کی نادر تحریریں (تالیف)، (8) فکر اقبالؔ (تالیف)، (9) کہانیاں (تالیف)، (10) بازیافت (تنقید)، (11) آواز اور آدمی (تنقید)، (12) لفظوں کے آگے (تنقید)، (13) شادی کی آخری سالگرہ (ترجمہ)، (14) کہانی اور اس کا فن (ترجمہ)، (15) تلگو ادب کی تاریخ پر ایک نطر (متفرق)، (16) نکات اُردو (متفرق)، (17) انگریزی میں معاصر ہندوستانی کہانیاں، (18) عصری ہندوستانی کہانیاں، (19) دکنی لغت و تذکرہ دکنی مخطوطات، (20) ہندوستانی مسلمان سیاسی منزل کی تلاش، (21) نذر مغنی تبسم (سلیمان اطہر جاوید)۔ انعامات و اعزازات : آندھراپردیش، اترپردیش، مغربی بنگال اُردو اکیڈیمی سے انعامات، غالب ایوارڈ، ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ، 2007 ء میں عالمی فروغ اُردو ایوارڈ قطر سے ملا۔
ڈاکٹر مغنی تبسم نہ صرف بہترین استاذ تھے بلکہ شاعر، نقاد، ادیب، دانشور اور ادارہ ادبیات اُردو کے ڈائرکٹر، مدیر (سب رس) اور شعر و حکمت کے شریک مدیر بھی تھے۔ ڈاکٹر مغنی تبسم نے آخری دم تک ادارہ ادبیات اُردو کو علم و ادب اور تحقیقات کا مرکز بنائے رکھا۔ علامہ اعجاز فرخ رقم طراز ہیں : ’’وہ ایک بہترین شخصیت کے مالک تھے۔ کمرۂ جماعت میں تدریس کا ان کا ایک منفرد انداز تھا۔ تحقیق کا معیار ہمیشہ ان کے پیش نظر رہا۔ وہ ہمیشہ گہرے سمندر کی طرح دکھائی دیتے تھے۔ کم سے کم الفاظ میں معنی کے دریا بہادینے کا فن اُنھیں خوب آتا تھا‘‘۔
ڈاکٹر مغنی تبسم کے کئی شاگردوں نے بھی ادبی دنیا میں اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے جن میں قابل ذکر اکبر علی بیگ مرحوم، محمد انورالدین اور بیگ احساس ہیں۔ حیدرآباد کی تدریسی اور ادبی تاریخ ڈاکٹر مغنی تبسم کو کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
منتخب اشعار
چھپا رکھا تھا یوں خود کو کمال میرا تھا
کسی پہ کھل نہیں پایا جو حال میرا تھا
اپنی تلاش ہے ، ہمیں آنکھوں کے شہر میں
آئینہ جب سے اپنے مقابل نہیں رہا
دل سے جاتی نہیں ٹہرے ہوئے قدموں کی صدا
آنکھ کے سواتگ رچا رکھا ہے بینائی کا
دروازے سب دل میں آکر کھلتے تھے
دیواریں چہروں کو دکھانے والی تھی
ملنا سفر کا اور بچھڑنا سفر کا ہے
دنیا تو رہ گزر ہے محفل نہ کہہ اسے
اسی نظر نے مجھے توڑ کر بکھیر دیا
اسی نظر نے بنایا تھا آئینہ مجھ کو
اب نہ وہ لمس نگاہوں کا نہ خوشبو کی صدا
دل نے دیکھا تھا مگر خواب شناسائی کا
تجھے اپنا سبھی کچھ سونپنا ہے
ترے دامن میں بھر جانا ہے مجھ کو
فضا میں نغمۂ آوازِ پا ہے میرے لئے کراں
کراں سے تابہ کراں اک ندا ہے میرے لئے
یوں لگتا ہے سب کچھ کھونے آیا تھا
میں اس گھر میں تجھ کو رونے آیا تھا
تو میرے ہمراہ تو آیا تھا لیکن
تنہائی کے کانٹے بونے آیا تھا
نام ہی رہ گیا اک انجمن آرائی کا
چھپ گیا چاند بھی اب تو شب تنہائی کا
اب آ کے کوئی رُلادے تو روشنی آئے
بہت دنوں سے لہو جم رہا ہے آنکھوں میں
سونپ دی ہے اُسے تنہائی بھی
اب مجھے اپنی ضرورت نہ رہی
لوح اس کی ہے ، قلم اُس کا ، مقدر میرا
ہاتھ میرے ہیں دعاؤں میں اثر اس کا ہے
میں اپنے خوابوں کی دنیا میں کھویا رہا
کب تک رات ڈھلی کب چاند بجھا معلوم نہیں
غزل
گرنا نہیں ہے اور سنبھلنا نہیں ہے اب
بیٹھے ہیں رہ گزار پہ چلنا نہیں ہے اب
پچھلا پہر ہے شب کا سویرے کی خبر ہو
بجھتے ہوئے چراغ ہیں جلنا نہیں ہے اب
ہے آستیں سے کام نہ دامن سے کچھ غرض
پتھر بنے ہوئے ہیں پگھلنا نہیں ہے اب
منظر ٹہر گیا ہے کوئی دل میں آن کر
دنیا کے ساتھ اس کو بدلنا نہیں ہے اب
لب آشنائے حرفِ تبسم نہیں رہے
دل کے لہو کو اشک میں ڈھلنا نہیں ہے اب

Leave a Comment