زرعی فصلوں کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات پر زور

نظام آباد:23؍ اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)ضلع میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے کسانوں کی پریشانیاں اور فصلوں کے تحفظ کیلئے نظام ساگر کولاس نالاں پراجیکٹس سے پانی چھوڑنے کیلئے مکمل اختیارات ضلع کلکٹر مسٹر رونالڈراس کے حوالے کی گئی۔ کل ضلع واٹر اڈوائزری کمیٹی کا اجلاس پرگتی بھون میں ضلع کلکٹر مسٹر رونالڈ راس کی صدارت میں منعقد کیا گیا۔ اس اجلاس سے میں وزیر زراعت مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی نے ارکان اسمبلی محمد شکیل عامر، ہنمنت شنڈے، ضلع پریشد چیرمین دفعدار راجو، ایم ایل سی ارکلہ نرساریڈی،ڈی سی ایم ایس چیرمین گنگا دھر پٹواری، ایس سی آبپاشی شکیل الرحمن و دیگر نے شرکت کی ۔ ضلع کو درکار پانی نظام ساگر اور کولاس نالے سے چھوڑنے کیلئے ضلع کلکٹر کو اختیارات دیتے ہوئے 3.09 ٹی ایم سی پانی چھوڑنے کیلئے قرار داد منظور کی گئی۔ جبکہ علی ساگر لفٹ ایریگیشن سے 0.8 ٹی ایم سی پانی کے استعمال کیلئے ریاستی حکومت سے منظوری کیلئے سفارش کی گئی۔ مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی نے اس موقع پر عہدیداروں پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بارش نہ ہونے کی وجہ سے ضلع میں کی جانے والی کاشت کی تفصیلات کے حصول کیلئے بنیادی طور پر جائزہ لینا ضروری ہے۔ عہدیدار دیہی سطح پر حکومت کی جانب سے منتخب کسانوں سے تفصیلات حاصل کرتے ہوئے رپورٹ تیار کررہے ہیں اور یہ رپورٹ درست نہیں ہے۔ محکمہ زراعت اور آبپاشی ریونیو کے عہدیداروں کے درمیان تال میل نہ ہونے کی وجہ سے من مانی رپورٹ تیار کی جارہی ہے۔ فصلوں کے نقصان کی تفصیلات کے حصول عہدیداروں پر منحصر ہونا پڑ رہا ہے اور عہدیداروں کی کار کردگی انتہائی ناقص ہے کہے کر مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی نے برہمی کا اظہار کیا۔ پراجیکٹوں کے علاقوں میں کی جانے والی کاشت کی تفصیلات درست نہ ہونے پر مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی نے ناراضگی ظاہر کی اور عہدیداروں پر برہمی ظاہر کرنا شروع کیا تو ضلع کلکٹر مسٹر رونالڈراس نے مداخلت کرتے ہوئے صحافیوں کی موجودگی میں برہمی نہ کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ دوسرے موقع پر تمام تفصیلات کو واقف کرانے کا ارادہ ظاہر کرنے پر مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی خاموش ہوگئے۔ ضلع میں ہونے والی کاشت کے تحفظ کیلئے اقدامات ضروری ہے۔ تین دنوں میں بارش ہونے کی موسم کی پیش قیاسی کی جارہی ہے اور نظام ساگرسے 3.5 ٹی ایم سی پانی استعمال کیلئے حکومت کی جانب سے منظوری حاصل ہوئی ہے اور جمعرات کی رات بارش ہونے کی وجہ سے مزید پانی ہونے کے امکانات ہیں لہذا ضرورت کے مطابق پانی کے استعمال کیلئے ضلع کلکٹر کو ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ ایم ایل سی ارکلہ نرساریڈی نے نظام ساگر سے 5 ٹی ایم سی پانی چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ ہنمنت شنڈے نے نظام ساگر پراجیکٹ سے نظام ساگر منڈل کو 300 کیوزک پانی چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ رکن اسمبلی بودھن شکیل عامر نے علی ساگر سے 1.8 ٹی ایم سی پانی چھوڑنے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی نے برقی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کو 2400 میگاواٹ برقی درکار ہے لیکن موجودہ صورتحال یہ ہے کہ صرف 1400 میگاواٹ برقی پیداوار کی جارہی ہے ۔ صنعتوں کو برقی سربراہی میں کٹوتی کرتے ہوئے زرعی شعبہ کو برقی سربراہ کیا جارہا ہے۔ سال 2009-14 تک فصلوں کے نقصان کیلئے 482.52 کروڑ روپئے معاوضہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے منظور کیا گیا۔ اس اسکیم کے تحت 26 لاکھ کسانوں کو فائدہ حاصل ہوااور ضلع کے 51 ہزار کسانوں کو 20.06کروڑ روپئے کا فائدہ حاصل ہواہے۔رکن اسمبلی نظام آباد رورل باجی ریڈی گوردھن نے مسٹر پوچارام سرینواس ریڈی سے نمائندگی کرتے ہوئے رورل حلقہ کے فصلوں کے تحفظ کیلئے علی ساگرسے پانی ماسانی لفٹ ایریگیشن کی ضرورت پر زور دیا۔