لکھنو ۔ 16 ۔ مارچ (سیاست لااٹ کام) بی ایس پی اور بی جے پی نے آج اترپردیش اسمبلی سے واک آؤٹ کردیا اور ریاستی حکومت پر یہ الزام عائد کیا کہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات کی روک تھام میں ناکام اور مظفر نگر کے فساد میں بے قصور افراد کے خلاف کیس درج کئے گئے ہیں۔ وقفہ صفر کے دوران کانگریس رکن ندیم جاوید نے حکومت سے دریافت کیا کہ ریاست میں سال 2013 ء اور 2014 کے دوران کتنے فسادات پیش آئے ہیں اور قصواراروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک گیر سطح پر ریاست میں سب سے زیادہ 247 فسادات پیش آئے ہیں اور فسادات بھڑکانے بالخصوص دیہی علاقوں میں پھیلانے کیلئے سوشیل اور الیکٹرانک میڈیا کا استعمال کیا گیا ہے۔ بی جے پی رکن سریش رانا نے یہ ادعا کیا کہ مظفر نگر فسادات میں جن 11 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کئے گئے ہیں، وہ فسادات کے دوران زندہ نہیں تھے ۔ تاہم وزیر پارلیمانی امور محمد اعظم خان نے یہ اعتراف کیا کہ فسادات کے دوران سوشیل اور الیکٹرانک میڈیا کا استعمال کیا گیا ہے اور بتایا کہ اس کی روک تھام صرف قانون کے ذریعہ ہی کی جاسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مظفر نگر فسادات کی تحقیقات میں جو لوگ قصوروار پائے گئے ہیں ، ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ان کے خلاف کیس کی دستبرداری مناسب نہیں ہوگا جبکہ بی جے پی رکن سریش رانا نے بتایا کہ متوفی افراد کے خلاف مقدمات سے دستبرداری اختیار کردی جائے اور مثال پیش کی کہ ایک 87 سالہ معمر شخص کے خلاف عصمت ریزی کا کیس درج کیا گیا ۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ بے قصوروار کے خلاف کیسس کی دستبرداری کیلئے ایک اعلیٰ اختیاری کمیٹی تشکیل دی جائے۔ تاہم ریاستی وزیر محمد اعظم خان نے بی جے پی رکن کے نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ عصمت ریزی کا تعلق عمر سے نہ یں ہوتا اور گجرات کے متنازعہ بابا آشا رام کی عمر پر سوال اٹھایا جو کہ عصمت ریزی کے الزام میں ان دنوں جیل میں ہیں۔ بی جے پی رکن سریش کمار کھنہ نے جب حکومت سے مطالبہ کیا کہ جیل میں محروس بے قصور افراد سے انصاف کیا جائے ۔ مسٹر اعظم خان نے کہا کہ اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو تحریری شکایت کرنے پر حکومت کارروائی کرے گی۔ بی جے ارکان اس وقت مشتعل ہوگئے، جب اعظم خان نے دریافت کیا کہ گجرات میں فسادات کے دوران جن لوگوں کو جیلوں میں بند کردیا گیا ہے، ان کی رہائی کیلئے قومی اعلیٰ اختیاری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس پر احتجاج کرتے ہوئے بی جے پی نے ایوان سے واک آؤٹ کردیا ۔ بعد ازاں اپوزیشن لیڈر اور بی جے پی رکن سوامی پرساد موریہ نے کہا کہ سہارنپور اور مظفر نگر کے فسادات میں سینکڑوں کیسس درج کرنے پر شبہات پیدا ہورہے ہیں ۔ بی ایس پی ارکان نے بھی اس وقت واک آؤٹ کردیا جب اعظم خان نے الزام عائد کیا کہ بی ایس پی کے دور حکومت میں جیل کے اندر ایک میڈیکل آفیسر کا قتل کردیا گیا تھا۔