کولکاتا ، 25 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بعض گوشے ایسے مل جائیں گے جو کہتے ہیں کہ روہت شرما میں قائدانہ صلاحیت کا فقدان ہے۔ وہ بہت زیادہ پُرسکون انداز کے حامل ہیں، اپنی ہی دنیا میں بہت مگن رہتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ وہ فطری طور پر کافی باصلاحیت ہیں۔ لیکن ان میں سے کئی لوگ نہیں جانتے کہ ممبئی لوکل ٹرین میں مصروف اوقات میں مکمل کرکٹ کِٹ کے ساتھ داخل ہونا کیسا ہوتا ہے؛ کئی لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ پریکٹس کیلئے دو گھنٹے کی تاخیر سے پہنچنے اور پھر اپنے کوچ کو وضاحت کرتے رہنا کیسا ہوتا ہے کہ اس تاخیر کی وجہ کِٹ بیاگ کا ٹرین کے دروازے سے گرجانا رہا، جس سے لٹک کر آپ سفر کررہے تھے؛ اور نا ہی انھیں اس تکلیف کا اندازہ ہے جو کسی کھلاڑی کو اپنے اولین ٹسٹ کی صبح وارم اپ کے دوران زخمی ہوجانے سے ہوتی ہے۔ یہ سب کام آپ کوئی جوش اور ولولے یا ٹیلنٹ کے بغیر نہیں کرسکتے۔ یہ تبدیلی بتدریج عمل ہوا ہے۔ وہ ٹیم میں بار بار شامل ہوا اور اتنی ہی بار ڈراپ بھی کیا جاتا رہا … یہ سب کپتان ایم ایس دھونی کا اعتماد جیتنے کے باوجود ہوا۔ ایسے پس منظر کے حامل روہت نے گزشتہ رات یہاں ممبئی انڈینس کو آئی پی ایل 8 کی خطابی فتح سے ہمکنار کرایا ۔ اس جیت نے بلاشبہ ٹیم انڈیا کیلئے ایک اور متبادل فراہم کیا ہے جو ضرورت پڑنے پر ویراٹ کوہلی کی جگہ لے سکتا ہے جبکہ دھونی نے فی الحال خود کو لمیٹیڈ اوورس کرکٹ تک محدو دکر لیا ہے۔ اس اعتبار سے روہت زیرقیادت ممبئی انڈینس کی جیت واقعی یادگار رہے گی۔